تارکینِ وطن کا بحران، سلووینیا کاسرحدی رکاوٹیں کھڑی کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہEPA
سلووینیا نے کرویئشیا سے ملحق سرحد پر تارکین وطن کی آمد کا سلسلے کو روکنے کے لیے ’عارضی طور پر تکنیکی رکاوٹیں‘ کھڑی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سلووینیا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ’باڑ‘ بھی لگائیں لیکن انھوں نےسرحد کو کھولے رکھنے پر اصرار کیا ہے۔
ہنگری کی جانب سے سرحد بند کرنے کے بعد اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ 70 ہزار تارکینِ وطن نے سلووینیا کی سرحد عبور کی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں تقریباً 30 ہزار مزید تارکین وطن سرحد عبور کریں گے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث تقریباً سات لاکھ افراد یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔
سلووینیا کے وزیراعظم نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ ’ہم نے پیر کو فیصلہ کیا تھا کہ کرویئشیا کی سرحد پر بعض عارضی تکنیکی رکاوٹیں بنائی جائیں۔‘
’ان رکاوٹوں میں باڑ بھی شامل ہے ہمارا مقصد یہ ہے کہ تارکین وطن کی سرحد عبور کرنے کے لیے رہنمائی کی جائے۔ ہم سرحدیں بند نہیں کر رہے۔‘
انھوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ’انسانی بحران‘ پیدا ہونے سے روکنا ہے کیونکہ اُن کا ملک اتنی بڑی تعداد میں باہر سے آنے والوں کو پناہ نہیں دے سکتا۔
گذشتہ ماہ آسٹریا نے کہا تھا کہ وہ سلووینیا سے آسٹریا میں داخل ہونے والی سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہنگری نے کرویئشیا اور سربیا کے ساتھ سرحد باڑ لگا کر بند کر دی ہے جس کے بعد تارکینِ وطن سلووینیا کا رخ کر رہے ہیں۔
بلقان سے ہوتے ہوئے یورپ داخل ہونے کے راستے میں سلووینیا سب سے چھوٹا ملک ہے، جس کی مجموعی آبادی 20 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔







