تارکینِ وطن کی دوبارہ آبادکاری سلسلہ شروع

20 افراد پر مشتمل اریٹریا کے باشندوں کا گروہ اٹلی سے اپنے نئے گھر سویڈن کی جانب جا رہا ہے۔ یہ یورپی یونین کے جانب سے تارکینِ وطن کو دوبارہ آباد کرنے کے منصوبے کے سلسلے کی پہلی آباد کاری ہوگی۔
یورپی یونین کے منصوبے کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار تارکینِ وطن کو اٹلی، یونان اور یورپی یونین کے دیگر ممالک میں دوبارہ تقسیم کیا جائے گا۔
اٹلی نے بہت پہلے ہی مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک سے مدد کی درخواست کی تھی۔
جمعرات کو یورپی یونین نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔
اس ضمن میں ان ممالک کے وزرائے داخلہ نے باڈر فورس فرینیٹکس کو کھولنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے تاکہ ان پناہ گزینوں کو بے دخل کیا جا سکے جو پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی یونین سے باہر موجود ممالک والوں کے دوبارہ داخلے کے لیے ان ممالک سے مزید موثر معاہدے کیے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
جمعرات کو یورپی یونین کے کمشنر برائے تارکینِ وطن دیمتریس اویمپولس نے کہا تھا کہ دوبارہ آباد کاری کے منصوبے پر جمعے سے عمل درآمد شروع ہوگا۔
یورپی یونین نے نئے آنے والے تارکینِ وطن کے لیے اٹلی اور روم میں نام نہاد ’ہاٹ سپاٹ‘ قائم کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمشنر برائے تارکینِ وطن دیمتریس اویمپولس کے مطابق اٹلی میں پہلے ہی لیمپڈوسا کے مقام پر پہلے سے ہی ہاٹ سپاٹ کام کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دس پروازوں میں ان تارکینِ وطن کو بھجوایا جائے گا جنھیں داخل ہونے میں ناکامی ہوئی۔
اس کے علاوہ جرمنی اور آسٹریا بھی پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنے ماہرین کو اٹلی اور یونان کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے۔
عام طور پر یہ ممالک شامی، عراق اور اریٹریا کے باشندوں کو پناہ دے رہے ہیں تاہم ان کی جانب سے افریقہ اور ایشیا سے بہتر روزگار کی تلاش میں آنے والے مہاجرین کو کم جگہ دی جا رہی ہے۔
گذشتہ برس سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے بلاک میں پانچ لاکھ سے زائد تارکینِ وطن موجود تھے مگر صرف 40 فیصد کو ہی بے دخل کیا جا سکا۔
یورپی یونین بین الاقوامی قانون کے مطابق مہاجرین کو واپس نہیں بھجوا سکتی۔







