کروئیشیا نے پناہ گزینوں کو ہنگری کی جانب بھیج دیا

ہنگری نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے ایک نئی باڑ لگانے کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہنگری نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے ایک نئی باڑ لگانے کا اعلان کیا ہے

کروئیشیا کے وزیراعظم زوران میلانووچ کی جانب سے ملک میں مزید پناہ گزینوں کو جگہ نہ دینے کے فیصلے کے بعد اب وہاں موجود ہزاروں افراد کو ہنگری کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔

جمعے کو کروئیشیا کے وزیرِ اعظم زوران میلانووچ نے خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک مزید تارکین وطن کو جگہ دینے کا متحمل نہیں اور ملک میں آنے والے پناہ گزیوں کو ’آگے روانہ کر دیا جائے گا۔‘

زوران میلانوچ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک مغربی یورپ جانے کی خواہاں تارکینِ وطن کو نہیں روک سکتا اور جتنے تارکینِ وطن کی رجسٹریشن ممکن ہو سکی کی جائے گی۔

اگرچہ ہنگری نے کہا ہے کہ وہ تارکین وطن کو روکنے کے لیے نئی باڑ لگا رہا ہے لیکن جمعے کو تارکین وطن سے بھری مزید 20 بسیں اس کی سرحد پر پہنچی ہیں۔

کروئیشیا نے پہلے ہی گذشتہ دو دن کے دوران 14 ہزار تارکین وطن کی آمد کے بعد سربیا سے متصل اپنے آٹھ میں سے سات سرحدی راستوں کو بند کر دیا ہے۔

ہنگری کی جانب سے سربیا سے متصل سرحد بند کیے جانے کے بعد کروئیشیا یورپی یونین میں داخلے کے لیے نئے راستے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

وزیرِ اعظم میلانووچ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کو پناہ گزینوں کا ’ہاٹ سپاٹ‘ نہیں بننے دیں گے۔

انھوں نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی جائے گی لیکن ان کا ملک پناہ گزینوں کے معاملے میں گنجائش کی انتہا تک پہنچ چکا ہے۔

’ہمارے پاس دل ہے لیکن ساتھ ہی ایک دماغ بھی ہے۔ یہ بہت زیادہ لوگ ہیں۔ ہم ان سے نہیں نمٹ سکتے۔‘

 کروئیشیا نے سربیا سے متصل اپنے آٹھ میں سے سات سرحدی راستوں کو بند کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن کروئیشیا نے سربیا سے متصل اپنے آٹھ میں سے سات سرحدی راستوں کو بند کر دیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ کروئیشیا اب پناہ گزینوں کو آگے سفر جاری رکھنے میں مدد دے گا اور انھیں سلووینیا کی نسبت ہنگری بھیجنا آسان ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’انھیں خوراک،پانی اور طبی مدد ملے گی اور پھر وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یورپی یونین سمجھ لے کہ کروشیا پناہ گزینوں کا گڑھ نہیں بن سکتا۔‘

زوران میلانووچ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کروئیشیا نے سربیا سے متصل اپنے آٹھ میں سے سات سرحدی راستوں کو بند کر دیا ہے۔

کروئیشیا کے دارالحکومت زغرب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار گوئے ڈیلونی کا کہنا ہے کہ سرحدی راستوں کی بندش کی وجہ سے یونان سے شمالی یورپ تک مرکزی زمینی راستہ بند ہوگیا ہے۔

جمعرات کو پناہ گزین بند سرحدی راستوں کو چھوڑ کر مکئی کے کھیتوں میں پیدل سفر کرتے دکھائی دیے لیکن سرحد عبور کرنے کے بعد ان میں سے بیشتر کو کروئیشین پولیس نے پکڑ لیا اور مخصوص مراکز میں بھیج دیا گیا۔

سرحد کے نزدیک واقع ایک مرکز سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں گنجائش سے زیادہ افراد جمع ہو چکے ہیں۔

کروئیشیا میں عالمی ریڈ کراس کی ترجمان قطرینہ زورچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالات بہت پیچیدہ ہیں اور پناہ گزین تھک چکے ہیں جبکہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران 14 ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن کروئیشیا میں داخل ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند دنوں کے دوران 14 ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن کروئیشیا میں داخل ہو چکے ہیں

کروئیشیئن حکام کا کہنا ہے کہ بلغراد سے زغرب کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کے علاوہ سربیا اور کروئیشیا کے تمام سرحدی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق باجاکوو میں واحد کھلے ہوئے سرحدی راستے پر گاڑیوں کی چھ کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو سلووینیا کی پولیس نے کروئیشیا کی سرحد کے قریب دبوا کے مقام پر تارکینِ وطن کی ایک ٹرین کو روکا جس میں 100 کے قریب افراد موجود تھے۔

بتایا گیا ہے کہ انھیں دوبارہ کروئیشیا بھجوایا جائے گا۔

جمعرات کو ہی سربیا سے متصل سرحد پر موجود ہزاروں تارکین کروئیشین پولیس کا حصار توڑ کر ملک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اس دوران دو جگہ ہنگامہ آرائی بھی ہوئی جس میں پولیس اہلکار اور تارکینِ وطن دونوں زخمی ہوئے۔

یہ تارکینِ وطن جرمنی جانا چاہتے ہیں تاہم کروئیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پناہ کی درخواست دینی ہوگی ورنہ انھیں غیر قانونی تارک وطن تصور کیا جائے گا۔

ادھر پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے یوریی یونین کے رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس اگلے ہفتے ہو رہا ہے۔