’انسانی سمگلروں نے جان بوجھ کر کشتی ڈبوئی‘

- مصنف, رچرڈ گیپلن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
یونان کے ساحل کے نزدیک اتوار کو غرق ہونے والی پناہ گزینوں کی ایک کشتی کے زندہ بچ جانے والے 90 سے زیادہ مسافروں کو یونانی جزیرے لیروس لایا گیا ہے۔
اس حادثے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے جن میں 14 عراقی اور شامی بچے بھی شامل ہیں۔
زندہ بچ جانے والے ایک پناہ گزین نے بی بی سی کو بتایا کہ لکڑی سے بنی یہ کشتی ترکی سے یونان کے سفر پر نکلی تھی اور فارماکونیسی نامی جزیرے سے تین سو میٹر کے فاصلے پر ڈوب گئی تھی۔
عراق سے تعلق رکھنے والے جے نامی پناہ گزین نے کہا کہ جب پانی کشتی میں داخل ہونے لگا تو اس وقت بھی بہت سے افراد اس میں پھنسے ہوئے تھے۔
ان کے مطابق وہ بہت افسردہ ہیں کہ ان میں سے بیشتر کو نہیں بچا پائے۔
جے نے کہا کہ ’میں نے بچوں اور عورتوں کو مرتے دیکھا لیکن کچھ نہیں کر سکا۔ وہاں بہت سی عورتیں اور بچے تھے۔‘
انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کشتی ڈبونے کے ذمہ دار شامی سمگلر تھے جنھوں نے کشتی کے فرش میں ہتھوڑے مار کر سوراخ کیا تاکہ اس میں پانی بھر جائے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جے کے خیال میں اس اقدام کی ممکنہ وجہ فارماکونیسی کے جزیرے پر تعینات یونانی فوج کی توجہ حاصل کرنا تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیروس میں موجود ان پناہ گزینوں سے ملاقات کرنے والے رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے وہ سب افراد خشکی پر پہنچنے کے باوجود خوف کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔
جزیرے پر ایک مکان کے مالک ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے جیٹ جیکبسن کے مطابق ’وہاں بچے تھے، لڑکیاں، لڑکے ان کے والدین اور بالغ افراد بھی اور وہ سب رو رہے تھے اور چیخ رہے تھے۔‘
تاہم کچھ ایسے پناہ گزین بھی تھے جو سہمے ہوئے اور خاموش تھے۔
ان سب نے اس پرہجوم کشتی میں جگہ پانے کے لیے بظاہر ساڑھے 12 سو سے ڈھائی ہزار یورو کے درمیان رقم ادا کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
اب ان میں سے بیشتر کو لیروس کے ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے جہاں ماہرینِ نفسیات ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جے، اب بھی برطانیہ پہنچ کر اپنے خاندان والوں سے ملنے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن وہ نہیں چاہتا کہ برطانیہ میں اسے پناہ گزین سمجھا جائے۔
اس کا کہنا ہے کہ ’مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ مجھے پیسہ نہیں چاہیے۔ مجھے بس ان کے پاس جانا ہے۔ میں مرد ہوں۔ میرے ہاتھ ہیں، میں کام کر سکتا ہوں۔‘







