شام کے مختلف علاقوں میں بمباری سے 80 افراد ہلاک

بمباری دارالحکومت کے قریبی قصبے دوما اور شمالی شہر حلب کے علاقوں میں کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبمباری دارالحکومت کے قریبی قصبے دوما اور شمالی شہر حلب کے علاقوں میں کی گئی ہے

شام سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق باغیوں کے زیرِ اختیار علاقوں میں بمباری سے کم سے کم 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ بمباری دارالحکومت کے قریبی قصبے دوما اور شمالی شہر حلب کے علاقوں میں کی گئی ہے۔

<link type="page"><caption> امریکہ کا شام میں کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا اعلان</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/10/151030_syria_us_forces_is_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’ایران کو بشارالاسد کی علیحدگی کو تسلیم کرنا ہوگا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/10/151029_syria_saudi_arabia_asad_talks_tk" platform="highweb"/></link>

شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق حکومتی فورسز نے دوما کے ایک بازار پر راکٹ داغے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ فضائی حملے کس کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

شام میں تازہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ویانا میں شام کے تنازع کے حل کے لیے عالمی رہنما جمع تھےاور سبھی نے مسئلے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ تاہم بیشتر عالمی رہنما صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہیں۔

روس کا موقف ہے کہ شامی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ جبکہ مغربی ممالک کا اصرار ہے کہ اسد کا شام کے مستبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے آئندہ بات چیت دو ہفتوں میں متوقع ہے۔

اس اثنا میں امریکہ نے شام میں سپیشل فورسز بھیجنے کا اعلان بھی کیا حکومت مخالف گروہوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مدد کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق سپیشل فورسز میں ’50 سے کم‘ نفری شامل ہو گی۔ اور یہ پہلا موقع ہو گا کہ امریکی فورسز شام میں کھلے عام کارروائی میں حصہ لیں گے۔

بیشتر عالمی رہنما صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبیشتر عالمی رہنما صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہیں