امریکہ کا شام میں کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن شام میں سپیشل فورسز بھیج رہے ہیں جو حکومت مخالف گروہوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مدد کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق سپیشل فورسز میں ’50 سے کم‘ نفری شامل ہو گی۔ اور یہ پہلا موقع ہو گا کہ امریکی فورسز شام میں کھلے عام کارروائی میں حصہ لیں گے۔
دوسری جانب شام کے تنازعے کے حل کے لیے<link type="page"><caption> آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات کرنے والے </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151030_syria_talks_vienna_iran_saudia_sz" platform="highweb"/></link>عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے معمولی پیش رفت ہوئی ہے لیکن صدر اسد کے مستقبل کے بارے میں ابھی بھی شدید اختلافات برقرار ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں امریکی فورسز نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کی ہوئی ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیشل فورسز بھیجنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شام کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا مرکز شمالی شام ہو گا۔
ماضی میں امریکی سپیشل فورسز نے شام میں دو کارروائیاں کی ہیں۔ مئی میں مشرقی شام میں ایک کارروائی میں دولت اسلامیہ کے سینیئر رکن ابو سیاف کو ہلاک کیا گیا اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا گیا۔
اس سے قبل پچھلے سال امریکی صحافی جیمز فولی سمیت امریکی مغویوں کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن کیا گیا جو ناکام رہا اور بعد میں دولت اسلامیہ نے جیمز فولی کا سر قلم کردیا۔
امریکہ نے یہ اعلان ایسے وقت کیا ہے جب شام کے تنازعے کے حل کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان اہم بات چیت ہونے والی ہے جس میں ایران پہلی بار شرکت کر رہا ہے۔
اس بات چیت سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے قومی مفاد سے بالاتر ہوکر متحد ہوجائیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر متعلقہ ممالک کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس تنازع کو حل کیا جا سکے۔







