ویانا مذاکرات میں شام کے مسئلے کے حل پر معمولی پیش رفت

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے تنازعے کے حل کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات کرنے والے عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے معمولی پیش رفت ہوئی ہے لیکن صدر اسد کے مستقبل کے بارے میں ابھی بھی شدید اختلافات برقرار ہیں۔
یورپی یونین کے انسانی حقوق کے سربراہ فیڈریکا موگرینی کا کہنا ہے کہ اس بات کی توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قیادت میں شام میں قیام امن کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔
<link type="page"><caption> جو امریکہ نہ کر سکا روس کر سکےگا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151029_russian_syria_intervention_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’بدعنوانی کا احساس اور انتہا پسندانہ تشدد‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151029_middle_east_secret_defence_budget_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ایران کو بشارالاسد کی علیحدگی کو تسلیم کرنا ہوگا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151029_syria_saudi_arabia_asad_talks_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
اس بات چیت سے عین قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ شام کی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے قومی مفاد سے بالاتر ہوکر متحد ہوجائیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر متعلقہ ممالک کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس تنازع کو حل کیا جا سکے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ شام کے مسئلے پر ایران سفارتی سطح پر بات چیت میں شامل ہوا ہے۔ ایران کی طرح روس بھی شام کے موجودہ حکمراں بشار الاسد کا حامی ہے اور وہ بھی اس بات چیت میں حصہ لے رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران اور روس کو بات چیت میں امریکہ اور سعودی عرب کا سامنا ہے جو بشارالاسد کے سخت مخالف ہیں۔
اس بات چیت میں شام کی حکومت اور باغیوں کے کسی نمائندے کو دعوت نہیں دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل سعودی عرب نے کہا تھا کہ ایران کو شام کے تنازع کے حل کے لیے بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کو قبول کرنا ہوگا۔
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عدیل الزبیر نے یہ بیان ویانا میں شام کے مسئلے پر ہونے والی بین الاقوامی بات چیت کے عین قبل دیا تھا۔
سعودی وزیرِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا۔
’انھیں جانا ہے چاہے وہ سیاسی عمل کے ذریعے جائیں یا طاقت کے زور پر۔‘







