ایران کو شام پر مذاکرات میں شرکت کی دعوت

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی بین الاقوامی بات چیت میں پہلی مرتبہ ایران کو بھی شامل کیا جائے گا۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربے کا کہنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی رہنما جمعرات کو ویانا میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
ان مذاکرات میں امریکہ، روس، یورپی اور عرب ممالک کے اعلی مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔
مغرب کی حمایت یافتہ شام کی حزبِ اختلاف اور امیکہ کے خلیجی اتحادی ممالک شامی جنگ میں ایرانی کردار کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
ترجمان نے صحافیوں کو بتایا جمعرات کی بات چیت میں ایران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
’اب یہ ایرانی رہنماؤں پر ہے کہ وہ شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ اہم شرکاء گفتگو میں شامل ہوں۔ ایران اس میں اہم رکن ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال وہ نہیں ہیں۔‘
ایران شامی صدر بشار الاسد کا قریب ترین اتحادی ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ایران نے گذشتہ چار سال میں اسد کی حکومت کے مضبوطی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، جنگی ماہرین اور رعایتی نرخ پر اسلحہ اور ایندھن فراہم کیا ہے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ سے بھی تعلقات ہیں جس نے شام میں حکومتی فوجوں کی مدد کے لیے اپنے جنگجو بھیجے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کی حکومت نے شام میں کشریت الجماعتی آزادانہ انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کی تجویز دی ہے تاہم لیکن وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے۔
روس جس نے ہمیشہ شام کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا تھا اس نے بھی گذشتہ ماہ شام میں فضائی حملے شروع کیے جس میں بقول اس کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ روسی حملوں میں زیادہ تر مغرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ شامی باغی نشانہ بنے۔







