فری سیریئن آرمی کو روس کی مدد نہیں چاہیے

فری سیریئن آرمی اب تک ان تنظیموں میں شامل رہی ہے جو روس کے فضائی حملوں کا شکار ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے روس پر مغربی طاقتوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفری سیریئن آرمی اب تک ان تنظیموں میں شامل رہی ہے جو روس کے فضائی حملوں کا شکار ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے روس پر مغربی طاقتوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے

مغربی ممالک کے حمایت یافتہ شامی باغی گروہ فری سیریئن آرمی نے دولتِ اسلامیہ جیسی تنظیموں سے نمٹنے کے لیے روس کی جانب سے عسکری مدد کی پیشکش رد کر دی ہے۔

فری سیریئن آرمی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ماسکو پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور انھیں روس کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ روس کی فضائیہ فری سیریئن آرمی کی مدد کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ فری سیریئن آرمی اب تک ان تنظیموں میں شامل رہی ہے جو روس کے فضائی حملوں کا شکار ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے روس پر مغربی طاقتوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

روس شامی صدر بشارالاسد کا اہم اتحادی ہے۔ گذشتہ ماہ روس نے شام میں حملوں کا آغاز کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بنیادی طور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہا ہے۔

مغربی ممالک نے بشارالاسد کے دورہ ماسکو پر تنقید کی تھی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمغربی ممالک نے بشارالاسد کے دورہ ماسکو پر تنقید کی تھی

ان کا کہنا تھا کہ روس فری سیریئن آرمی کی مدد کرنے کے لیے تیار تھا تاہم امریکہ نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔ کیونکہ امریکہ نے باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کی پوزیشنز سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔

ان کا یہ انٹرویو ویانا میں جان کیری سے مذاکرات کے آغاز سے قبل ریکارڈ ہوا تھا اور اسے سنیچر کو جاری کیا گیا۔

بعد میں جان کیری کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’تعمیری مذاکرات‘ ہوئے اور آئندہ ہفتے مذاکرات کا ایک بڑا دور ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو روسی صدر نے یہ تجویز دی تھی کہ شامی حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف کچھ باغی گروہوں سے مل کر لڑ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کے حالیہ دورے کے دوران شامی ہم منصب بشارالاسد نے ان کی اس تجویز پر اتفاق کیا تھا۔

خیال رہے کہ ترکی، سعودی عرب اور امریکہ شام میں لڑنے والے تمام باغی گروہوں کے حامی ہیں۔