’کرد دولتِ اسلامیہ کے خلاف شام اور عراق کے ساتھ اتحاد بنائیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادی میر پوتن نے کردوں سے مطالبہ کیا ہے وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے شام اور عراق کی حکومتوں کے ساتھ اتحاد بنائیں۔
صدر پوتن کا کہنا تھا کہ روس شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے بارے میں مغربی ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔
<link type="page"><caption> اسد سے ملاقات کے بعد پوتن کے مخالفین سے رابطے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151021_syria_president_surprise_visit_russia_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’روس سے مدد نہ لینے کی یقین دہانی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151021_iraq_us_air_strikes.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بشار الاسد کا ماسکو میں ’پرتپاک استقبال،‘ امریکہ کی تنقید</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151022_us_syria_moscow_criticism_rh" platform="highweb"/></link>
روس کے شہر سوچی میں ولدائی انٹرنیشنل ڈسکشن کلب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے خطرے سے روس اور مغرب کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
روسی صدر کا یہ بیان منگل کو شامی وزیراعظم بشارالاسد کے اچانک دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنی تمام قوتوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے، شام اورعراق میں فوجیں اور کردوں کے گروہ۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ہوتن نے مزید کہا کہ شام میں جہادی گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں تمام مسائل ختم نہیں کرسکتیں، لیکن اس سے سیاسی حل کا راستہ نکل سکتا ہے اور شامی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
صدر پوتن نے ’دہشت گردوں کی اعتدال پسند اور غیراعتدال پسند تقسیم پر‘ مغرب کی سرزنش بھی کی۔
انھوں نے کہا: ’آپ دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرسکتے اگر آپ اپنی ناپسندیدہ حکومتوں کو گرانے کے لیے ان کا استعمال کریں۔‘
صدر پوتن نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے سے روس اور مغربی ممالک کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع دیا ہے، ایسے مواقع سرد جنگ کے اختتام اور نائن الیون حملوں کے بعد کھو دیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ امریکہ نے شام کے صدر بشارالاسد کا ماسکو کے دورے پر ’والہانہ استقبال‘ کرنے پر شدید مذمت کی تھی۔
جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق شامی صدر کا دورہ حیران کُن نہیں تھا بلکہ امریکہ کو روس کی جانب سے شام میں مسلسل جاری فوجی حمایت پر تشویش ہے۔







