شام: امریکہ اور روس کے درمیان فضائی کارروائی کا معاہدہ طے پاگیا

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ اور روس کے حکام کے مطابق دونوں ممالک کے مابین شام کی فضائی حدود میں طیاروں کے اتفاقی ٹکراؤ سے بچاؤ کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
روس نے 30 ستمبر سے شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔
<link type="page"><caption> ’بمباری کا مقصد بشار الاسد کی حکومت کو مستحکم کرنا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151012_putin_defends_syria_strikes_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> امریکہ اور روس فضائی کارروائی کے معاہدے کے قریب</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151014_us_russia_air_safety_update_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شام میں روس کے بڑھتے ہوئے مفادات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151015_russian_stakes_in_syria_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کے طیارے ’ایک ہی جنگی فضا‘ میں داخل ہوگئے تھے اور ان کے درمیان محض چند میل کا فاصلہ تھا۔
دونوں ممالک کی جانب سے اس معاہدے کی کوششیں گذشتہ ماہ کے اواخر سے کی جارہی تھیں۔
پیٹاگون کے ترجمان پیٹر کک کا کہنا ہے کہ اس معاہدہ کا متن ماسکو کی درخواست پر خفیہ رکھا جائے گا، لیکن اس معاہدے کے مطابق دونوں جانب سے مواصلات اور زمین پر ایک ہاٹ لائن کے قیام کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیٹر کک کے مطابق دونوں ممالک اپنے اہداف کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ نہیں کریں گے۔
ترجمان پینٹاگون کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی رو سے دونوں ممالک کے طیارے ایک دوسرے سے ’محفوظ‘ حد تک فاصلے پر رہیں گے، تاہم انھوں نے اس امر کی تصدیق نہیں کی کہ متعین کردہ فاصلوں پر دونوں ممالک متفق ہیں یا نہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پیٹاگون کا کہنا تھا کہ روس اور امریکی جنگی جہاز 10 سے 20 میل کے فاصلے تک قریب آگئے تھے۔
روسی نائب وزیر دفاع انگولی انتونوف کا کہنا تھا کہ معاہدہ ’متعدد اصول و ضوابط پر مشتمل ہے جس کا مقصد امریکی اور روسی طیاروں کے درمیان واقعات کی روک تھام ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
واضح رہے کہ مغربی ممالک اور شامی سرگرم کارکنان کا کہنا ہے کہ روسی جنگی جہاز شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بجائے دیگر گروہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم روس ان دعووں کے تردید کرتا ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں دولت اسلامیہ اور دیگر جہادی گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز اپنے اتحادی شامی صدر بشار الاسد کی درخواست پر کیا ہے۔
امریکی حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انھیں روسی فضائی کارروائیوں کے آغاز سے محض چند لمحے قبل باخبر کیا گیا تھا۔
پیر کو شام کے شمال مغربی علاقے میں روس نے فضائی حملے میں <link type="page"><caption> کم سے کم 45 افراد ہلاک ہو ئے تھے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151020_russian_airstrikes_in_syria_sr.shtml" platform="highweb"/></link>۔







