شام: امریکہ کا روس سے مزید بات چیت سے انکار

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے شام میں کی جانے والی فضائی کارروائی کے سلسلے میں مربوط پالیسی بنانے کے لیےماسکو کی جانب سے دی جانے والی اعلی سطحی فوجی مذاکرات کی تجویز کو رد کر دیا ہے۔
روس کے اراکینِ پارلیمنٹ سے بات کرتے ہوے وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر ہمیں بتایا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے وفد ماسکو نہیں بھیجے گا اور نہ ہی روسی وفد سے واشنگٹن میں مذاکرات کیے جائیں گے۔
اس سے پہلے آنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک شام میں جاری فضائی کارروائیوں کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مزید بات چیت کرنے کے خواہاں تھے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کا یہ تیسرا دور ہونا تھا۔
خیال رہے کہ روس نے حال ہی میں شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے جبکہ امریکہ کا زیرِ قیادت اتحاد بھی شام میں فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔
اس صورتِ حال میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں ان کارروائیوں کے دوران کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے روس کے ساتھ اس حوالے سے جلد معاہدہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب روس کا کہنا تھا کہ اس نے یکم اکتوبر کو ویڈیو کانفرنس کے دوران کی گئی بحث میں دی جانے والی تجاویز کو اپ ڈیٹ کیا ہے جس پر مزید بات چیت کی جائے گی۔
امید کی جا رہی تھی کہ امریکی اور روسی حکام بدھ کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات چیت کریں گے۔
خیال رہے کہ روس نے 30 ستمبر سے شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ وہ وہاں دولتِ اسلامیہ اور دیگر جہادی گروہوں کو شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے کی جانے والی درخواست کے بعد نشانہ بنا رہا ہے۔
مغربی ممالک اور شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی جہاز دولتِ اسلامیہ کے علاوہ دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جس کی ماسکو تردید کرتا ہے۔







