’روس شام میں محفوظ فضائی کارروائیوں پر بات چیت کو تیار‘

،تصویر کا ذریعہRussian Defence MinistryReuters
امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ روس نے امریکہ کے ساتھ شام میں جاری فضائی کارروائیوں کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے معاملے پر باقاعدہ بات چیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
محکمۂ دفاع کے پریس سیکریٹری پیٹر کک کا کہنا ہے کہ بات چیت ’جلد از جلد یعنی ہفتۂ رواں کے اختتام پر ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’محکمۂ دفاع کو روس کی وزارتِ دفاع کی جانب سے اپنی اس تجویز کا باقاعدہ جواب مل گیا ہے کہ شام میں فضائی کارروائیوں کو محفوظ بنایا جانا ضروری ہے۔‘
پیٹر کک نے کہا کہ محکمے کے اعلیٰ عہدیدار روسی جواب کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس معاملے پر بات چیت اختتامِ ہفتہ پر ممکن ہے۔

خیال رہے کہ روس نے حال ہی میں شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے جبکہ امریکہ کے زیرِ قیادت اتحاد بھی شام میں فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔
اس صورتِ حال میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں دونوں کارروائیوں کے دوران کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ اور روس نے فضائی حدود کے تحفظ پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے یکم اکتوبر کو بات کی تھی لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے ماسکو کی جانب سے انھیں کوئی اطلاعات نہیں ملی ہے۔
اس سے قبل رواں ہفتے پینٹاگون کے حکام نے کہا کہ انھیں کم از کم ایک امریکی طیارے کو شام کی فضائی حدود میں روسی طیارے سے ٹکرانے سے بچانے کے لیے محفوظ علیحدگی کرنی پڑی تھی۔
انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ یکم اکتوبر کے بعد رونما ہوا تاہم انھوں نے مخصوص دن کا ذکر نہیں کیا۔
امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اس بات پر گفتگو ہوگی کہ امریکہ اور روس کے طیاروں میں کتنی دوری ہونی چاہیے اور بات چیت کے لیے جہاز کا عملے کون سی فریکوئنسی اور زبان کا استعمال کرے گا۔
خیال رہے کہ روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاورو اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کے درمیان شام میں دونوں ممالک کی عسکری کارروائیوں پر جمعرات کو بات ہوئی تھی۔
روسی طیاروں کی جانب سے اپنی مہم کے دوران دو مرتبہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی گئی جس پر نیٹو نے اپنے رکن ممالک کو ان کا تحفظ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
نیٹو کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ روس ان فضائی خلاف ورزیوں کی حقیقی توجیح پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور یہ واقعات بظاہر کسی غلطی کا نتیجہ نہیں لگتے۔
اس سلسلے میں روس کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے بیان کے مطابق جان کیری نے جمعرات کو سرگے لاورو کو فون کیا اور اس گفتگو کے دوران شام کی فضائی حدود میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑائی میں مربوط کوششیں کرنے پر بھی بات کی۔







