نیٹو کی رکن ممالک کو تحفظ کی یقین دہانی

،تصویر کا ذریعہAFP
معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کے اتحاد نیٹو نے شام میں بڑھتی ہوئی روسی فوجی کارروائیوں اور روسی طیاروں کی ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوںکے پس منظر میں اپنے رکن ملکوں کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
جمعرات کو برسلز میں اجلاس کے بعد اتحاد کے سیکریٹری جنرل یینس سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ رکن ملکوں کے وزرائے دفاع نے فیصلہ کیا ہے کہ اتحاد کی تیز رفتار فوج کی تعداد 40 ہزار کی جائے اور اسے مزید بہتر بنایا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے جلد از جلد تعینات کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات نیٹو کے رکن ممالک کے شہریوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ نیٹو ان کا دفاع کرے گا۔ نیٹو موجود ہے اور تیار ہے۔
شام میں روسی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اتحاد کے سیکریٹری جنرل یینس سٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ روس کی کارروائیاں غیر موافق ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سٹولٹن برگ نے ماسکو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ شام میں صدر بشار الاسد کی مدد اور حمایت چھوڑ دے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ماسکو ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ وہ اسد حکومت کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم اور دیگر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاہے۔
دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک صدر اسد کی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔







