روسی بحری جہازوں سے دولتِ اسلامیہ پر میزائل حملے

،تصویر کا ذریعہReuters
روس نے شام میں جاری اپنی عسکری کارروائی کے دوران پہلی مرتبہ بحریہ کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحیرۂ کیسپیئن میں ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کی دوری پر موجود جنگی بحری جہازوں سے مقررہ اہداف پر میزائل داغے گئے ہیں۔
وزیرِ دفاع سرگے شوئگو نے کہا ہے کہ چار جنگی بحری جہازوں نے 11 مختلف اہداف پر 26 پانی سے خشکی پر مار کرنے والے کروز میزائل داغے جو سب اپنے نشانوں پر لگے۔
روسی وزیرِ دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حملوں میں جہاں شدت پسندوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور اسلحہ خانے تباہ ہوئے وہیں کسی قسم کی شہری ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں۔
ادھر شام میں حکومتی افواج نے حکومت مخالف قوتوں کے خلاف نئی کارروائی شروع کی ہے جس میں اسے روسی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ 30 ستمبر سے شام میں شروع ہونے والے روسی حملوں کے بعد پہلی مربوط کارروائی ہے۔
روسی حکام کے مطابق اب تک کی کارروائیوں میں 112 اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
روس نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ ایک ہفتے تک اس نے اپنی کارروائیوں میں دولتِ اسلامیہ کو نشانہ نہیں بنایا۔
امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف برسرِپیکار اتحادی افواج روس سے تعاون نہیں کریں گی۔
بدھ کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خیال میں روس کی حکمتِ عملی غلط ہے۔ وہ مسلسل ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانے نہیں اور ہمارے نزدیک یہ بنیادی غلطی ہے۔‘
ادھر سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حما اور ادلب میں شدید لڑائی بھی جاری ہے جو کئی ماہ میں ہونے والی شدید ترین لڑائی ہے اور یہ جھڑپیں ان علاقوں میں روسی فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی ہے۔







