شام: امریکہ اور روس فضائی کارروائی کے معاہدے کے قریب

،تصویر کا ذریعہRussian Ministry of Defence

روس کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ شام میں کی جانے والی فضائی کارروائی کے سلسلے میں مربوط پالیسی بنانے کے لیے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور میں ’اس حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔‘

امریکہ اور روس کو امید ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان شام میں اتفاقی ہونے والے ٹكراو کو روک سکے گا۔

خیال رہے کہ روس نے حال ہی میں شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے جبکہ امریکہ کا زیرِ قیادت اتحاد بھی شام میں فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

اس صورتِ حال میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں ان کارروائیوں کے دوران کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے۔

ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک کے فوجی اہلکار شام کی فضائی حدود میں بنیادی حفاظت کے طریقۂ کار کے بارے میں مفاہمت کی یادداشت کو حمتی شکل دے رہے تھے۔

ادھر امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے ایک بیان میں روس کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات کو ’پیشہ ورانہ‘ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ امریکہ نے شام میں کی جانے والی فضائی کارروائی کے سلسلے میں مربوط پالیسی بنانے کے لیےماسکو کی جانب سے دی جانے والی اعلی سطحی فوجی مذاکرات کی تجویز کو رد کر دیا ہے۔

روس کے اراکینِ پارلیمان سے بات کرتے ہوے وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر ہمیں بتایا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے وفد ماسکو نہیں بھیجے گا اور نہ ہی روسی وفد سے واشنگٹن میں مذاکرات کیے جائیں گے۔

روس کا موقف ہے کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ اور دیگر جہادی گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

تاہم مغربی ممالک اور شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی جہاز دولتِ اسلامیہ کے علاوہ دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جس کی ماسکو تردید کرتا ہے۔