حلب پر شامی فوج کا حملہ، ’ہزاروں رہائشیوں کی نقل مکانی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں موجود امدادی ادارے کے ایک کارکن کے مطابق گذشتہ تین روز کے دوران حلب شہر میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر حکومتی حملوں کے بعد ہزاروں مکینوں نے وہاں سے نقل مکانی کی ہے۔
شام میں طبّی امداد کی تنظیموں کی یونین کے سربراہ ڈاکٹر زیدون الزوبی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں متعدد دیہات لوگوں سے خالی ملے۔
انھوں نے کہا کہ ہزاروں لوگ وہاں سے بغیر طبّی امداد اور تحفظ کے نکل رہے تھے۔
حکومت کی جانب سے گذشتہ دو ہفتوں میں روسی امداد ملنے کے بعد یہ کم ازکم چوتھا حملہ تھا۔
یہ حملےحلب کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ حُمص اور ہما صوبے کے شمال میں دیہی علاقوں اور ساحلی صوبے لذاقیہ کے شمال میں ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہnc
باغی جنگجوؤں نے، جن میں دولتِ اسلامیہ کے جہادی شدت پسند شامل نہیں ہیں، رواں سال کے آغاز میں ان اہم علاقوں تک رسائی حاصل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جیٹ طیاروں سے ڈھکا آسمان‘
ڈاکٹر ذوبی نے بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے حلب کے جنوبی مضافات میں کم ازکم 70 ہزار افراد کو نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ بغیر خوراک، طبّی امداد اور کسی سائبان کے جا رہے تھے۔
’شیلنگ بہت خطرناک تھی، آسمان جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے ڈھکا ہوا تھا اور لوگ بری طرح خوفزدہ تھے۔ وہ موت سے خوف زدہ تھے۔‘
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ حکومتی فوجوں نے شامی حامیوں، ایرانی ملیشیا اور لبنان کی حزب اللہ موومنٹ کے جنگجؤوں کے ساتھ مل کر خان تمن ٹاؤن کے قریب تین اہم چوٹیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
تاہم دوسری جانب مغرب نواز فری سیریئن آرمی کے جنگجوؤں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھیں امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی کھیپ ملی ہے۔
باغیوں کا کہنا ہے کہ بظاہر حکومتی فوجیں حلب کو لذاقیہ اور ہما صوبے سے ملانے والی موٹر وے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہepa
خیال رہے کہ حلب ترکی سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ شام کا تجارتی اور صنعتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ سنہ 2012 کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہو چکا ہے۔ مغربی حصے پر حکومت جبکہ مشرقی پر باغی گروہوں کا قبضہ ہے۔
اتوار کو ترکی کے وزیراعظم نے یورپی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ حلب کے جنوب میں حملے اور علاقے میں دولتِ اسلامیہ کےحملوں کے نتیجے میں مہاجرین کی نئی لہر سامنے آئے گی۔
خیال رہے کہ شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک ڈھائی لاکھ افرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس صورت حال کے نتیجے میں ایک کروڑ دس لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔







