شامی پناہ گزینوں کے لیے مراعاتی پیکیج کی تشکیل

لبنان میں پناہ گزینوں کی تعداد وہاں کی 30 فیصد آبادی کے برابر ہے جبکہ اردن میں یہ تعداد 20 فیصد ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنلبنان میں پناہ گزینوں کی تعداد وہاں کی 30 فیصد آبادی کے برابر ہے جبکہ اردن میں یہ تعداد 20 فیصد ہے

شامی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے ممالک کی مالی امداد کے لیے عالمی بینک کی جانب سے مراعاتی منصوبے کی تشکیل کی کوشش کی جا رہی ہیں۔

بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ لبنان اور اردن کو شدید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عالمی بینک، خلیجی ممالک اور دنیا کے امیر ترین ممالک کے درمیان اس موضوع پر تبادلۂ خیال جاری ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا حصہ بننے والے ممکنہ امدادی ممالک کی جانب سے اس پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ امدادی رقوم کی پہلی قسط چار سے چھ ماہ میں جاری کی جا سکے گی۔

زیر بحث انتظام میں عالمی بینک اردن اور لبنان کے لیے قرضوں کا اجرا کرے گا جبکہ امداد فراہم کرنے والے ممالک اس قرض کی مد میں ادا کیے جانے والے سود کا بوجھ کسی حد تک برداشت کریں گے۔

شام کی سرحدوں سے منسلک ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین موجود ہیں۔ پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ترکی میں ہے تاہم قدرے چھوٹی معیشت کے حامل لبنان اور اردن کو کہیں زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

لبنان میں پناہ گزینوں کی تعداد وہاں کی 30 فیصد آبادی کے برابر ہے جبکہ اردن میں یہ تعداد 20 فیصد ہے۔

حکومتی بجٹ پر ان 85 فیصد پناہ گزینوں کا بوجھ پڑتا ہے جو عام مکانوں میں رہتے ہیں جبکہ پناہ گزینوں کے لیے مخصوص خیمہ بستیوں کا خرچہ اقوام متحدہ اٹھاتی ہے۔

وہ لوگ جو پناہ گزینوں کے لیے قائم امدادی خیمہ بستیوں میں قیام پذیر نہیں ہیں انھیں صحت اور تعلیم کی مد میں خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

شام کی سرحدوں سے منسلک ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشام کی سرحدوں سے منسلک ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین موجود ہیں

اور پھر پانی اور بجلی کے بل بھی ہیں۔ اگر وہ ان بلوں کی ادائیگی کرتے بھی ہیں تو اکثر ان پر انھیں ادائیگی کی مد میں رعایت دی جاتی ہے اور اس لیے پناہ گزینوں کی ان ممالک میں موجودگی کے باعث اضافی لاگت کا بوجھ حکومت کو اٹھانا پڑتا ہے۔

عالمی بینک کے ایک تجزیہ کار کی نظر میں ان پناہ گزینوں کی میزبانی کر کے یہ ممالک ’عالمی سطح پر عوام کے ساتھ اچھائی‘ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر ممالک اور اداروں کی جانب سے ان پر پڑنے والے مالی بوجھ کم کرنے کے لیے رضامندی نظر آتی ہے۔

دوسری جانب لبنان اور اردن کا شمار کیونکہ درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتا ہے اس لیے عالمی بینک انھیں عطیات یا رعایتی شرح سود پر قرضوں کی پیشکش نہیں کر سکتا۔ یہ سہولیات صرف کم آمدنی والے ممالک کو دی جا سکتی ہیں۔ درمیانی آمدنی والے ممالک کو قرضے فراہم تو کیے جا سکتے ہیں تاہم ان پر سود کی شرح میں رعایت نہیں دی جا سکتی اور وہ اصل شرح سود پر ہی جاری کیے جا سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لبنان اور اردن اس حوالے سے تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ انھیں ایک ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سود ادا کرنا پڑے گا جو ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

عالمی بینک ایسا منصوبہ پیش کر رہا ہے جس کے تحت وہ انھیں قرضے فراہم کرے گا جبکہ امداد فراہم کرنے والے ممالک ان قرضوں کی ادائیگی پر لاگو ہونے والے سود کی مد میں کسی حد تک مالی بوجھ برداشت کریں گے۔ اگرچہ یہ منصوبہ براہ راست مدد کے مساوی تو نہیں ہو گا لیکن پھر بھی خاصا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس مراعاتی پیکیج کا حصہ بننے والے ممالک میں ممکنہ طور پر جی سیون (دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کی تنظیم)، خلیجی ممالک، اور چند قدرے چھوٹے یورپی ممالک شامل ہیں۔