پناہ گزینوں کا بحران: یورپی یونین ترکی سے معاہدے کی حامی

رواں سال تقریباً چھ لاکھ تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپ پہنچے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنرواں سال تقریباً چھ لاکھ تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپ پہنچے ہیں

یورپی یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترکی کے ساتھ ایک وسیع ایکشن پلان پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت پناہ گزینوں کی یورپ آمد پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت پناہ گزینوں کی آمد روکنے کا واضح تعلق ترک باشندوں کو ویزے کے بغیر یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفر کی اجازت دینے سے جوڑا گیا ہے۔

رواں سال تقریباً چھ لاکھ تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپی یونین پہنچے ہیں جن میں سے زیادہ تر ترکی سے یونان کے راستے شمال کی جانب بڑھے ہیں۔

ترکی اب تک 20 لاکھ افراد کو اپنے ہاں پناہ دے چکا ہے جن کی اکثریت شام میں جاری جنگ سے فرار ہونے والوں کی ہے۔

تارکینِ وطن کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے بدلے ترکی نے یورپی یونین کے سامنے کئی مطالبات رکھے ہیں۔

ان میں تین ارب یورو کی مدد اور ترک شہریوں کو یورپی ممالک کے سفر کے لیے ویزا پابندی میں نرمی پیدا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔

برسلز میں ہونے والے معاہدے کے مطابق یورپی سربراہان نے ان نکات پر عمل کرنے کی ہامی بھری ہے کہ:

  • یورپی یونین کے شینجن معاہدے میں شامل ممالک کا سفر کرنے کے خواہش مند ترک شہریوں کے لیے ویزوں میں نرمی کی جائے گی۔
  • ترکی کے یورپی یونین میں شامل ہونے کے حوالے سے بات چیت میں’نئی روح پھونکی جائے گی‘۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسک نے برسلز میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس معاہدے سے ’اچھے نتیجے کی امیدیں‘ ہیں۔

یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے کہا ہے کہ انقرہ کو تین ملین یورو کی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے ترک حکام کے ساتھ آنے والے دنوں میں مذاکرات جاری رہیں گے۔

یورپی یونین کے ذرائع کے مطابق متعدد ممالک نے ترکی کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے پر محتاط ردِ عمل دیتے ہوئے اس جلد بازی قراد دیا ہے۔ ان ممالک میں یونان، قبرص اور فرانس شامل ہیں۔

اس سے پہلے انگیلا میرکل نے جمعرات کی صبح جرمن پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپ آنے والے تارکین کی ایک بڑی تعداد ترکی کے راستے یورپ پہنچتی ہے۔ ہم ترکی کے ساتھ کام کیے بغیر پناہ گزینوں کی نقل و حرکت میں باقاعدگی نہیں لا سکتے اور نہ ہی اس مسئلے کو ختم کر سکتے ہیں۔‘