’دولت اسلامیہ کے قبضے سے درجنوں یرغمالی بازیاب ‘، ایک امریکی فوجی ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
پینٹاگون نے کہا ہے امریکہ اور عراق کی فوجوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے سے درجنوں یرغمالیوں کو بازیاب کروا لیا ہے۔
اس کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ گذشتہ سال ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف امریکی کارروائی کے آغاز سے کسی امریکی فوجی کی پہلی ہلاکت ہے۔
یہ آپریشن جمعرات کی صبح عراق کے کرد صوبے کرکوک کے شہر ہوویجہ میں کیا گیا۔
پینٹاگون کے مطابق اس کارروائی میں دولت اسلامیہ کے پانچ شدت پسندوں کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ متعدد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
دفاعی حکام کے مطابق یرغمال بنائے گئے 70 افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے جن میں سنی عرب، 20 عراقی سکیورٹی فورس کے اہلکار اور مبینہ جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کیے گئے دولت اسلامیہ کے ارکان شامل ہیں۔
پینٹاگون اور کرد حکام کے مطابق بازیاب کروائے گئے افراد میں کرد شامل نہیں ہیں۔
تاہم کرد انٹیلی جنس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف 17 افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے اور وہ تمام دولت اسلامیہ کے سابق جنگجو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد ان قیدیوں کو پکڑنا تھا جنھیں دولت اسلامیہ کے رہنماؤں کے حکم کی خلاف ورزیوں پر قید میں رکھا گیا تھا۔
پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے ایک بیان میں کہا: ’ہمیں معلومات ملی تھی کہ دولت اسلامیہ ان یرغمالیوں کو قتل کرنے والی ہے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہم نے منصوبہ بندی سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملہ کر یرغمالیوں کو چھڑا لیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیٹاگون کے مطابق امریکی فوج کردستان کے مقامی حکومت کی درخواست پر اس آپریشن میں شامل ہوئی تھی۔
اس علاقے میں کرد جنگجوؤں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے درمیان بھی سخت جنگ جاری ہے۔







