پیرس میں آتشزدگی سے آٹھ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس میں حکام کے مطابق دارالحکومت پیرس میں واقع ایک فلیٹ میں آگ لگنے کے نتیجے میں دو بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بدھ کی صبح کو آگ پیرس کے 18ویں ڈسٹرکٹ میں واقع مشہور پہاڑی ’ماؤنٹ مارٹ‘ کے پاس ایک فلیٹ میں بھڑک اٹھی اور اسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کے 100 ارکان کی ضرورت پڑی۔
متاثرہ عمارت سے چار افراد کو بچایا گیا ہے لیکن ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
حکام نے آتشزدگی کے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ورزیر داخلہ برنارڈ کازنا کے حوالے سے بتایا ہے کہ’سانحے کی وجوہات معلوم کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔‘
لیکن ابتدائی تحقیقات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ شاید آگ کو جان بوجھ کر لگایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اے ایف پی کے مطابق صبح دو بج کر 20 منٹ پر آگ بجھانے والے عملے کو جائے وقوع پر بلایا گیا جہاں انھوں نے آگ کو بجھایا لیکن دو گھنٹوں بعد انھیں دوبارہ آگ بجھانے کے لیے بلایا گیا تھا۔
وزارت داخلہ کے ترجمان پیئر ہنری برانڈے نے کہا کہ ’جب ایک ہی رات میں آپ کو ایک ہی جگہ پر دو مرتبہ آگ بجھانے کے لیے بلایا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ کسی کی بدنیتی ہو سکتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال ہے کہ آگ فلیٹ کی زمینی منزل پر شروع ہوئی اور وہاں سے سیڑھیوں سے اوپر والی منزلوں پر پہنچ گئی۔
اطلاعات کے مطابق کچھ رہائشیوں نے کھڑکیوں کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
پیرس کی میئر این ہڈالگو نے کہا کہ آگ ایک نجی عمارت میں بھڑک اٹھی جس میں کم آمدنی والے خاندان نہیں رہ سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس آگ سے 15 دیگر عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
خیال ہے کہ یہ آگ گزشتہ دہائی میں پیرس میں آگ لگنے کے سب سے مہلک ترین واقعات میں سے ایک ہے۔







