ترکی میں دو برطانوی صحافی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہTwitter
ترکی میں دو برطانوی صحافیوں اور ان کے ایک مترجم کو غیرقانونی مسلح گروپ کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وائس نیوز کا کہنا ہے کہ ان کے دو صحافیوں جیک ہنراہان اور فلپ پنڈلیبری اور ان کے ایک مترجم پر ترکی کی ایک عدالت نے ’دہشت گرد تنظیم کے لیے کام کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
ان تینوں افراد کو جمعرات کو پولیس نے ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیارباقر سے حراست میں لیا تھا۔
شعبہ نیوز کے سربراہ کیون سٹکلف نے ان الزامات کو بے بنیاد کو غلط قرار دیا ہے۔
وائس نیوز کے مطابق یہ تینوں افراد علاقے میں پولیس اور کرد جنگجوؤں کے درمیان تصادم کی فلم بندی کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوئے ہیں۔
صحافیوں کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کو ان کے ہوٹل سے حراست میں لیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر ان پر ایک فوجی اڈے کی بغیر اجازت فلم بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
وکیل کا کہنا تھا کہ ان کا کیمرہ اور کمپیوٹر بھی تحویل میں لے کر تفتیش کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران ان افراد سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پی کے کے یا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے رکن ہیں۔ تاہم انھوں نے ان الزامات کی تردید کی۔
کیون سٹکلف نے بتایا ہے کہ ’آج ترک حکومت نے دھمکانے اور کوریج کو سینسر کرنے کی کوشش میں وائس نیوز کے تین صحافیوں کے خلاف ’دہشت گرد تنظیم کے لیے کام کرنے ‘ کے بے بنیاد اور غلط الزامات لگائے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’وائس نیوز شدید ترین انداز میں ہمارے رپورٹروں کو خاموش کرنے کی ترک حکومت کی کوشش کی مذمت کرتی ہے جو خطے سے اہم کوریج فراہم کر رہے تھے۔‘







