استنبول میں امریکہ کے قونصل خانے پر فائرنگ

اتوار کی شام استنبول کے سلطان بیلی ضلعے میں ایک پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے ایک بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار اور دو شہری زخمی ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناتوار کی شام استنبول کے سلطان بیلی ضلعے میں ایک پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے ایک بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار اور دو شہری زخمی ہوئے تھے

ترکی کے شہر استنبول میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کے بعد مسلح افراد فرار ہوگئے۔

اس واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

فائرنگ کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ترکی کی حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کی درمیان تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف ترکی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ یا فرد نے تاحال قبول نہیں کی ہے۔

اس سے قبل ترکی میڈیا کے مطابق اتوار کی شام استنبول کے سلطان بیلی ضلعے میں ایک پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے ایک بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار اور دو شہری زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس حملے کے پس پشت کون لوگ تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ایک رہنما نے ترکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ کرد جنگجوؤں پر حملہ کر کے دولت اسلامیہ کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پی کے کے رہنما جمیل بیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں صدر رجب طیب اردوغان کردوں کو کامیابیوں سے باز رکھنے کے لیے ’دولت اسلامیہ‘ کی کامیابی چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ کرد جنگجوؤں نے، جن میں پی کے کے بھی شامل ہے، شام و عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔

لیکن مختلف مغربی ممالک کی طرح ترکی بھی پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔