’دولتِ اسلامیہ کے خلاف جلد جامع جنگ شروع کی جائےگی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

ترکی نے کہا ہے کہ وہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ مولود جاوسغلو نے کہا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے اور ڈرونز اب ترکی کے ہوائی اڈوں پر پہنچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ ہم سب اکٹھے ہو کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف بہت جلد جامع جنگ شروع کریں گے۔‘

خیال رہے کہ ترکی نےگذشتہ ماہ پہلی بار دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔

ترکی اس سے قبل اس تنظیم کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے کتراتا رہا ہے تاہم اس کے موقف میں تبدیلی اس وقت آئی جب ترکی میں ہونے والے متعدد حملوں کا الزام دولتِ اسلامیہ پر عائد کیا گیا۔

دوسری جانب شام نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ دمشق کو اعتماد میں لیے بغیر کی جانے والی کوئی بھی فوجی کارروائی اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہو گی۔

واضح رہے کہ ترکی نے گذشتہ ماہ جولائی میں امریکی فوج کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف انجرلیک نامی ایئر بیس استعمال کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

مولود جاوسغلو نے بدھ کو میڈیا کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق ہم نے اپنے ہوائی اڈوں خصوصاً انجرلیک کو کھولنے کے حوالے سے پیش رفت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ رہے کہ امریکی طیارے پہنچ رہے ہیں اور ہم سب اکٹھے ہو کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف بہت جلد جامع جنگ شروع کریں گے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ شام اور ترکی کی سرحد پر دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اور ترک فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک ترک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے جولائی ہی میں ترکی کے جنوبی شہر سورچ میں ہونے والے ایک خود کش دھماکے میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کا الزام بھی دولتِ اسلامیہ پر عائد کیا گیا تھا۔

ترکی کی پولیس نے حالیہ ہفتوں کے دوران ملک میں کیے جانے والے آپریشن میں دولتِ اسلامیہ اور کرد شدت پسندوں کے مشتبہ حامیوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا تھا۔