’بفر زون کُردوں کو اپنی ریاست بنانے سے روکنے کی کوشش ہے‘

صلاح دین دہمیرتاش نے کرد باغیوں اور ترک حکومت دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ امن عمل کا حصہ بنیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصلاح دین دہمیرتاش نے کرد باغیوں اور ترک حکومت دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ امن عمل کا حصہ بنیں

ترکی میں کرد اکثریتی جماعت ایچ ڈی پی کے رہنما صلاح دین دہمیرتاش نے کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں ’بفر زون‘ کے قیام کی تجویز دراصل کردوں کو اپنا ملک تشکیل دینے سے روکنے کی کوشش ہے۔

امریکہ نے رواں ہفتے ہی کہا ہے کہ اس نے ترکی کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے فضائی اڈے کے استعمال کی اجازت دیے جانے کے بعد شام کے شمالی علاقے میں ترکی کی جانب سے 90 کلومٹیر طویل بفر زون کے قیام کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون سے بات کرتے ہوئے صلاح دین دہمیرتاش کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں ’پی کے کے‘ کے کرد باغیوں کے خلاف آپریشن کرنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ ’پی کے کے‘ نے حال ہی میں ترک اہداف کو پھر سے نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

کرد رہنما نے کہا کہ ترکی نہیں چاہتا کہ شامی کرد اس علاقے کو کنٹرول کریں جو ترکی میں کرد اکثریتی علاقے سے متصل ہے۔

’ترکی اس محفوظ علاقے میں دولتِ اسلامیہ کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا۔ ترک حکومت شام میں کردوں کی جانب سے خودمختار ریاست کے قیام کی کوششوں سے پریشان تھی۔ اس لیے یہ ’سیف زون‘ ان کردوں کو روکنے کے لیے ہے نہ کہ دولتِ اسلامیہ کے لیے۔‘

خیال رہے کہ ترک حکام کہہ چکے ہیں کہ شام میں کرد افواج ان کے حالیہ فوجی اہداف میں شامل نہیں ہیں۔

صلاح دین دہمیرتاش نے کرد باغیوں اور ترک حکومت دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ امن عمل کا حصہ بنیں: ’ حکومت اور پی کے کے دونوں کو جنگ بندی کرنی چاہیے لیکن ہمارے خیال میں حکمران جماعت سے ممکنہ طور پر وابستہ دیگر قوتیں حالات بگاڑ رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تشدد کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب منگل کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ کرد جنگجوؤں کی جانب سے حملوں کے پیشِ نظر ترکوں اور کردوں کے درمیان جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی۔

ترک حکام کہہ چکے ہیں کہ شام میں کرد افواج ان کے حالیہ فوجی اہداف میں شامل نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنترک حکام کہہ چکے ہیں کہ شام میں کرد افواج ان کے حالیہ فوجی اہداف میں شامل نہیں ہیں

انقرہ میں صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’ان عناصر کے ساتھ امن عمل جاری نہیں رہ سکتا جو ہماری قومی سلامتی، اتحاد اور بھائی چارے کے لیے خطرہ ہیں۔‘

ان کے اس بیان کے بعد منگل کو ترک فوج نے بھی یہ کہا تھا کہ اس نے صوبہ سرناک میں ترک فوجیوں پر حملوں کے بعد عراق سے متصل سرحدی علاقے میں کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز پر امریکہ نے کہا تھا کہ وہ ترکی کے ساتھ مل کر شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

مجوزہ بفر زون کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی حکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بی بی سی کو بتایا تھا: ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شمالی شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے اور کمزور اور تباہ کرنے اور ایک ایسا علاقہ بنانے کی کوشش ہے جہاں داعش کے اثرات نہ ہوں۔‘

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جو اطلاعات کے مطابق حتمی شکل اختیار کر چکا ہے، دریائے فرات کے مغرب میں 68 میل یا 109 کلومیٹر کے علاقے سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا جائے گا۔