ترکی میں سلسلہ وار حملے، چھ افراد ہلاک

ترکی کی بائیں بازو کی ایک تنظیم نے امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنترکی کی بائیں بازو کی ایک تنظیم نے امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے

ترکی کی حکومت اور کردستان شدت پسندوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے دوران ہونے والے سلسلہ وار حملوں میں سکیورٹی افواج کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

ترکی کے جنوب مشرقی صوبے سرناک میں چار پولیس اہلکار سٹرک کنارے ہونے والے ایک بم دھماکے میں، جبکہ مسلح افراد کی جانب سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سپاہی ہلاک ہو گیا۔

ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

اس سے پہلے استنبول میں واقع امریکی قونصل خانے پر دو مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

ترکی کی بائیں بازو کے ایک گروپ نے امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ریولوشنری پیپلز لبریشن آرمی فرنٹ (ڈی ایچ کے پی سی) نامی اس تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دوسری جانب استنبول کے گورنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے والی دو میں ایک خاتون کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے اس کے قبضے سے ایک رائفل اور دوسرا اسلحہ برآمد کیا گیا۔

ڈی ایچ کے پی سی نےحراست میں لی جانے والی خاتون کا نام خدیجہ عاشق بتایا ہے۔

ترکی کے صوبے سرناک میں چار پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی بکتر بند گاڑی سلوپی قصبے میں سٹرک کنارے نصب بارودی مواد سے ٹکرا گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنترکی کے صوبے سرناک میں چار پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی بکتر بند گاڑی سلوپی قصبے میں سٹرک کنارے نصب بارودی مواد سے ٹکرا گئی

خیال رہے کہ اسی تنظیم نے سنہ 2013 میں ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں واقع امریکی قونصل خانے پر کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دوسری جانب استنبول میں قائم امریکی قونصل خانے نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ قونصل خانے کو تاحکمِ ثانی تک بند کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا استنبول میں ہی ہونے والے دوسرے حملے میں سلطان بیلی قصبے کے ایک پولیس سٹیشن پر کار بم حملے میں دس افراد زخمی ہو گئے، زخمی افراد میں تین پولیس اہکار بھی شامل ہیں۔

ترکی کے صوبے سرناک میں چار پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی بکتر بند گاڑی سلوپی قصبے میں سٹرک کنارے نصب بارودی مواد سے ٹکرا گئی۔

سرناک میں ہی ایک سپاہی اس وقت ہلاک ہوا جب مشتبہ کردش شدت پسندوں نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کر دی۔ اس واقعہ میں کم سے کم سات سپاہی زخمی ہو گئے۔

اس واقعہ کے بعد ترکی کے میڈیا نے دیارباکر صوبے میں بھی پولیس اور ملٹری ہیڈکوارٹرز پر ایسے حملوں کی خبریں شائع کیں۔

ان حملوں کے ردِ عمل میں ترکی کے ہیلی کاپٹروں نے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

پی کے کے ایک رہنما جمیل بیگ نے ترکی پر کرد جنگجوؤں کے خلاف حملہ کر کے دولت اسلامیہ کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔

جمیل بیگ نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کے خیال میں صدر رجب طیب اردوغان کردوں کو کامیابیوں سے باز رکھنے کے لیے ’دولت اسلامیہ‘ کی کامیابی چاہتے ہیں۔