کرد جنگجو دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے تیار

پی کے کے کا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اہم کردار ہے۔

21 سالہ رخائن آٹھ ماہ پہاڑوں میں گزارنے کے بعد نئے محاذ پر تعنیات ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ’میں نے انسانی قدروں کے دفاع اور خواتین کے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے پی کے کے میں شمولیت اختیار کی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن21 سالہ رخائن آٹھ ماہ پہاڑوں میں گزارنے کے بعد نئے محاذ پر تعنیات ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ’میں نے انسانی قدروں کے دفاع اور خواتین کے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے پی کے کے میں شمولیت اختیار کی ہے۔‘
گذشتہ تین دہائیوں سے کردستان ورکز پارٹی ’پی کے کے‘ ترک حکومت سے لڑ رہی ہے۔ ترکی کی حکومت نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ تین دہائیوں سے کردستان ورکز پارٹی ’پی کے کے‘ ترک حکومت سے لڑ رہی ہے۔ ترکی کی حکومت نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
دولتِ اسلامیہ کی قید سے فرار ہونے والی ایک یزیدی لڑکی (دائیں جانب) کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ہم میں سے بہت کو مار ڈالا۔ اس لیے خاموش نہیں رہنا۔ پہلے تو میں نے سینجار کے لیے لڑائی کی لیکن اب میں اے کے پی (ترکی کی حکمران جماعت) کے لیے لڑوں گی۔‘
،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کی قید سے فرار ہونے والی ایک یزیدی لڑکی (دائیں جانب) کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ہم میں سے بہت کو مار ڈالا۔ اس لیے خاموش نہیں رہنا۔ پہلے تو میں نے سینجار کے لیے لڑائی کی لیکن اب میں اے کے پی (ترکی کی حکمران جماعت) کے لیے لڑوں گی۔‘
سینجار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ یزیدی لڑکی، جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی قید سے بھاگ آئی اور مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لینے کے بجائے وہ پی کے کے میں شامل ہو گئی۔ اب وہ اپنے اغوا کاروں سے بھرپور مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسینجار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ یزیدی لڑکی، جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی قید سے بھاگ آئی اور مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لینے کے بجائے وہ پی کے کے میں شامل ہو گئی۔ اب وہ اپنے اغوا کاروں سے بھرپور مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
پے کے کے کے جنگجوؤں میں سے 40 فیصد خواتین ہیں۔فوج شامل مرد اور خواتین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں۔ فورسز کی آپس میں جنسی روابط کی سختی سے ممانعت ہے۔
،تصویر کا کیپشنپے کے کے کے جنگجوؤں میں سے 40 فیصد خواتین ہیں۔فوج شامل مرد اور خواتین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں۔ فورسز کی آپس میں جنسی روابط کی سختی سے ممانعت ہے۔
نارین جمشید، چار سال قبل پی کے کے میں شامل ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے لیے خواتین کو گھر کی جیل میں قید ہونا چاہیے اور وہ محض جنسی روابط کے لیے ہیں۔ وہ خود مختار خواتین سے خوف زدہ ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشننارین جمشید، چار سال قبل پی کے کے میں شامل ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے لیے خواتین کو گھر کی جیل میں قید ہونا چاہیے اور وہ محض جنسی روابط کے لیے ہیں۔ وہ خود مختار خواتین سے خوف زدہ ہیں۔‘
روجہت کراکوش، اب انسٹرکٹر ہیں۔ وہ یزیدیوں کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے حملے کے وقت کوہ سینجار پر تھے۔ اس لڑائی میں وہ دو بار زخمی ہوئے اس لیے اب وہ لڑ نہیں سکتے۔ اب وہ نئے آنے والوں کو تربیت دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنروجہت کراکوش، اب انسٹرکٹر ہیں۔ وہ یزیدیوں کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے حملے کے وقت کوہ سینجار پر تھے۔ اس لڑائی میں وہ دو بار زخمی ہوئے اس لیے اب وہ لڑ نہیں سکتے۔ اب وہ نئے آنے والوں کو تربیت دیتے ہیں۔
دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں پی کے کے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بی بی سی فارسی کے نامہ نگار جیار گول کو شمالی عراق کے میں پے کے کے کی تربیتی کیمپ میں جانے کا موقع ملا۔
،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں پی کے کے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بی بی سی فارسی کے نامہ نگار جیار گول کو شمالی عراق کے میں پے کے کے کی تربیتی کیمپ میں جانے کا موقع ملا۔
سنہ 2013 میں ترکی حکومت اور پی کے کے کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ گذشتہ ماہ پے کے کے نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔ دولت اسلامیہ نے کرد علاقے سورش میں بم دھماکہ کیا جس میں 32 کرد حامی سرگرم افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد ترکی نے دولتِ اسلامیہ اور کردوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 میں ترکی حکومت اور پی کے کے کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ گذشتہ ماہ پے کے کے نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔ دولت اسلامیہ نے کرد علاقے سورش میں بم دھماکہ کیا جس میں 32 کرد حامی سرگرم افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد ترکی نے دولتِ اسلامیہ اور کردوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی۔
جنگجوؤں کو شام کے محاذ پر پہنچنے کے لیے کئی دن سفر کرنا پڑتا ہے۔ ہزاروں جنگجو دولتِ اسلامیہ سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنگجوؤں کو شام کے محاذ پر پہنچنے کے لیے کئی دن سفر کرنا پڑتا ہے۔ ہزاروں جنگجو دولتِ اسلامیہ سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
تربیت لینے والے افراد کو پی کے کے کے فلسفے کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ 1984 سے اب تک آّزار کردستان کے مطالبے کے بعد سے کم سے کم 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتربیت لینے والے افراد کو پی کے کے کے فلسفے کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ 1984 سے اب تک آّزار کردستان کے مطالبے کے بعد سے کم سے کم 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔