وزیراعظم نجیب رزاق کو اقتدار سے باہر نکالیں: مہاتر محمد

سنہ 1981 سے 2003 تک ملائشیا کے وزیر اعظم رہنے والے مہاتر محمد نجیب رزاق کے حامی رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسنہ 1981 سے 2003 تک ملائشیا کے وزیر اعظم رہنے والے مہاتر محمد نجیب رزاق کے حامی رہے ہیں

ملائشیا کے سابق وزیرِ اعظم مہاتر محمد نے کوالالمپور کے سڑکوں پر حکومت مخالف مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ موجودہ وزیرِاعظم نجیب رزاق کو ’اقتدار سے باہر‘ نکالیں۔

گذشتہ دو روز سے پولیس کی بھاری نفری کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے والے مہاتر محمد کا کہنا تھا کہ نجیب رزاق کے حکومت ختم کرنے کے لیے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں۔

حکومت مخالف مظاہرین کسی نامعلوم ادارے یا فرد کی جانب سے وزیراعظم نجیب رزاق کے ذاتی اکاؤنٹ میں 70 کروڑ ڈالر جمع کیے جانے کی خبر پر برہم ہیں۔

اس بارے میں وزیرِ اعظم نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔

’قانون کی حکمرانی ختم‘

ماہر محمد کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اب نجیب رزاق کا اپنے عہدے پر قائم رہنا مشکل ہو گیا ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مہاترمحمد نے کہا کہ ’ ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔ لوگوں کے پاس پرانے نظام کو بحال کرنے کا ایک ہی طریقہ بچا ہے اور وہ یہ کہ اِس وزیراعظم کو ہٹا دیا جائے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ موجودہ وزیرِ اعظم کی چھٹی کرا دیں۔‘

سنہ 1981 سے 2003 تک ملائشیا کے وزیر اعظم رہنے والے مہاتر محمد نجیب رزاق کے حامی رہے ہیں لیکن اب وہ موجودہ وزیراعظم کے سخت ناقد بن گئے ہیں۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ مسٹر نجیب رزاق کروڑوں ڈالر کی بدعنوانی میں ملوث ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا الزام ہے کہ مسٹر نجیب رزاق کروڑوں ڈالر کی بدعنوانی میں ملوث ہیں

پولیس کا اندازہ ہے کہ سنیچ کے حکومت مخالف مظاہرے میں 25 ہزار افراد شریک تھے، تاہم مظاہرے میں شریک ایک جمہوریت پسند تنظیم ’برش‘ کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی تعداد دو لاکھ کے قریب تھی۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’برناما‘ کے مطابق وزیراعظم نجیب رزاق کا کہنا تھا کہ ’ جو لوگ زرد کپڑے پہنے مظاہروں میں نظر آ رہے ہیں وہ ہمارے اچھے نام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، اور باقی دنیا کے سامنے ملائیشیا کے چہرے پر کالک ملنا چاہتے ہیں۔‘

وزیر اعظم نجیب کے مخالفین ان پر سب سے بڑا الزام یہ لگاتے ہیں کہ انھوں نے اُس قومی بچت کے فنڈ (ون ایم ڈی بی) سے 70 کروڑ ڈالر وصول کیے ہیں جسے انھوں نے سنہ 2009 میں اِس ارادے سے بنایا تھا کہ اس فنڈ سے کوالالپمور کو تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے گا۔

نجیب رزاق کے کابینہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ مذکورے رقم دراصل ’سیاسی عطیہ‘ ہے جو مشرق وسطیٰ کے نامعلوم ذرائع کی جانب سے وزیرِ اعظم کو دیا گیا ہے اور اس معاملے میں گڑ بڑ نہیں ہوئی ہے۔ لیکن کابینہ نے اس معاملے کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

ون ایم بی ڈی کیا ہے؟

  • ون ملائیشین ڈیویلپمنٹ برہاد ( ون ایم بی ڈی) قومی سرمایہ کاری کا فنڈ ہے جو وزیر اعظم نجیب رزاق کی سربراہی میں سنہ 2009 میں قائم کیا تھا اور اس کا مقصد ملائیشیا کو ایک زیادہ آمدن والی معیشت میں تبدیل کرنا تھا۔
  • ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فنڈ کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری پر ضرورت سے بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا گیا اور مشہور بینک گولڈمین سیکس کو معاضے کی شکل میں لاکھوں ڈالر دے دیے گئے۔
  • ون ایم بی ڈی میں مبینہ گڑ بڑ سنہ 2014 میں اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوئی جب یہ ادارہ اپنے قرض خواہوں کو برقت رقم لوٹانے میں ناکام ہونا شروع ہو گیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ فنڈ 11 ارب ڈالر کے قرض میں ڈوب چکا ہے۔
  • مسٹر نجیب پر الزام ہے کہ انھوں نے اس فنڈ سے سات کروڑ ڈالر نکلوا لیے ہیں، تاہم مسٹر نجیب اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔
  • ملائشیا کے انسدادِ بدعنوانی کے ادارے (اینٹی کرپشن کمیشن) کا کہنا ہے کہ اس نے تصدیق کر لی ہے کہ وزیرِاعظم کو مذکورہ رقم دراصل کسی غیر ملکی خیرخواہ نے دی تھی۔