زچگی کے وقت پہننے کے لیے پاجامہ

میڈیکل کے شعبے سے منسلک متعدد افراد نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے

،تصویر کا ذریعہMAMA PRIDE

،تصویر کا کیپشنمیڈیکل کے شعبے سے منسلک متعدد افراد نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے

ملائیشیا میں زچگی کے وقت پہننے کے لیے خواتین کے لیے ایک پاجامہ متعارف کروایا گیا ہے۔

مالے میل ویب ویب سائٹ کے مطابق یہ پاجامے ان خواتین کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کروائے گئے ہیں جو زچگی کے دوران اپنے جسم کے ان حصوں کے بے لباس ہونے کے بارے میں فکر مند رہتی ہیں جنھیں اسلام کی کچھ تشریحات کے مطابق ڈھانپنا ضروری ہے۔

ان پاجاموں کا نچلا حصہ ٹریک سوٹ کی طرح دکھائی دیتا ہے تاہم ‘بچے کی پیدائش کے لیے ان میں کھلی جگہ رکھی گئی ہے۔‘

کمپنی کی ویب سائٹ نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا ہے: ’جنم دیتے ہوئے خاتون کی عزت اور جسم کی حصوں کی جانب توجہ نہیں دی جاتی۔ کولھے، پنڈلیاں اور گھٹنے بلاضرورت بے لباس ہو جاتے ہیں۔‘

اس پوسٹ کا میڈیکل کے شعبے سے منسلک متعدد پیشہ ور افراد نے خیرمقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ ملائیشیا میں حال ہی میں خواتین کی عزت کے حوالے سے بحث و مباحثہ شروع ہوا ہے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں مبینہ طور خواتین جو کسی عوامی مقام پر داخلے سے منع کیا گیا یا انھیں اپنا جسم ڈھانپنے کے لیے کہا گیا کیونکہ ان کے منی سکرٹ کچھ زیادہ ہی چھوٹے تھے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی جمناسٹک کی کھلاڑی فرح عین ہادی کو سنگاپور سی گیمز میں حصہ لینے پر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اور آن لائن گالم کلوچ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فرح عین ہادی کو ملائیشین ریاست سیلنگور کے سلطان کی جانب سے بھی حمایت حاصل رہی ہے جنھوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو ان کی کامیابی کا جشن منانا چاہیے نہ کہ ان کے کپڑوں پر تنقید کرنی چاہیے۔