منی سکرٹ اور حجاب کے درمیان جنگ

فیس بک کے صفحے پر شیئر کی گئی تصاویر میں خواتین کا دیگر چیزوں کے ساتھ بھی موازنہ بھی کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہthinkstock

،تصویر کا کیپشنفیس بک کے صفحے پر شیئر کی گئی تصاویر میں خواتین کا دیگر چیزوں کے ساتھ بھی موازنہ بھی کیا گیا ہے

عرب دنیا میں خواتین کے لباس سے متعلق دو متضاد آرا زور پکڑ رہی ہیں۔

اصل مرد کیا ہے؟ گذشتہ ہفتے بظاہر الجزائر سے شروع ہونے والی مہم ’اصل مرد بنو‘ شروع کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ مہم اپنے خاندان کی خواتین سے متعلق ہے کہ وہ کیا پہنیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ عوامی جگہوں پر خود کو صحیح طرح ڈھانپ کر رکھیں۔

فیس بک کا صفحہ ’بی اے مین اینڈ ڈونٹ لیٹ یور ویمن آؤٹ ان ریویلنگ کلوتھس‘ کو اب تک ہزاروں افراد لائک کر چکے ہیں۔

اس صفحے پر مرد اور اپنے خاندان کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ حجاب اور پردہ خواتین کو غیرضروری توجہ سے محفوظ رکھتی ہے۔

فیس بک کے اس صفحے پر شیئر کی گئی تصاویر میں خواتین کا دیگر چیزوں کے ساتھ بھی موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ ایک تصویر میں دو لالی پاپس کو دکھایا گیا ہے، جس میں ایک ڈکھا ہوا ہے اور دوسرا بغیر ڈکھا ہوا جس پر چیوٹیاں ہیں، اس تصویر کے ساتھ پیغام دیا گیا ہے کہ ’آپ انھیں روک نہیں سکتے لیکن آپ خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔‘ اسی طرح کی ایک اور تصویر میں اپنے جسم کی نمائش کرنے والی خواتین کو چھلکے کے بغیر ایک کیلے کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔

تاہم اس مہم کا الجزائر کے پڑوسی ملک تیونس کے سیکولر حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ تیونس کا شمار خطے کے دیگر ممالک کی نسبت خواتین کے حقوق کے حوالے سے نسبتا زیادہ روشن خیال ممالک میں ہوتا ہے۔

تیونس سے تعلق رکھنے والی سرگرم کارکن راشد بن عثمان نے اس کے خلاف الجزائر کی خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے آن لان مہم ’منی سکرٹ کا عالمی دن‘ کا آغاز کیا۔

راشد بن عثمان نے فیس بک پر لکھا کہ ’ہمیں شدت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔‘

 مہم ’اصل مرد بنو‘ شروع کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ مہم ان کے خاندان کی خواتین سے متعلق ہے کہ وہ کیا پہنیں

،تصویر کا ذریعہfacebook

،تصویر کا کیپشن مہم ’اصل مرد بنو‘ شروع کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ مہم ان کے خاندان کی خواتین سے متعلق ہے کہ وہ کیا پہنیں

نیونس کے ایک اور سرگرم کارکن نے اپنی حفاظت کے پیش نظر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’اصل مرد بنو‘ مہم خواتین کی تذلیل ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اپنی مہم کے لیے منی سکرٹ کا انتخاب کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں واضح طور پر بتانا چاہتی ہوں، انھوں نے حجاب کو لباس کے طور پر منتخب کیا ہے اور ہم نے منی سکرٹ کو۔‘

ملک کی نسبتاً روشن خیال تاریخ اور حالیہ قدامت پسندی کی جانب رجحان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا:’تیونس میں منی سکرٹ حجاب سے کافی عرصہ پہلے سے موجود تھا۔‘

کچھ روز قبل منی سکرٹ کا فیس بک ایونٹ پیج کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا کر ہٹا دیا گیا تھا۔ فیس بک کا کہنا تھا کہ وہ انفرادی عمل کے بارے میں رائے نہیں دے سکتے اور یہ صفحہ بحال کر دیا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ تقریب سنیچر کو منعقد ہونا تھی تاہم اس کو موخر کر دیا گیا ہے اور اب اس مہم کے لیے سرگرم کرکنان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں خواتین سے 6 جون کو منی سکرٹ پہننے کی درخواست کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس روز ’مرد بنو‘ مہم کے خلاف منی سکرٹ پہن کر اپنی تصویر پوسٹ کریں۔

بی بی سی سے ’مرد بنو‘ مہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔