ملائیشیا میں’تارکینِ وطن‘کی اجتماعی قبریں دریافت

،تصویر کا ذریعہbbc
ملائیشیا میں حکام نے کہا ہے کہ انھیں کئی اجتماعی قبریں ملی ہیں اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ پناہ کے متلاشی تارکینِ وطن کی ہیں۔
وزیرِ داخلہ زاہد حمیدی کے حوالے سے اخبار ملائیشیا سٹار نے لکھا ہے کہ یہ 17 قبریں تھائی لینڈ کی سرحد کے نزدیک ان خالی کیمپوں میں سے ملی ہیں جہاں انسانی سمگلر پناہ گزینوں کو رکھتے تھے۔
ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہاں سے کتنی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
تھائی لینڈ کے اس روٹ سے بھی بہت قبریں ملیں تھیں جہاں سے انسانی سمگلر میانمار یعنی برما سے جانیں بچا کر بھاگنے والے روہنجیا مسلمانوں کو لے کر جاتے تھے۔
لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملائیشیا میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہوں۔
تھائی لینڈ نے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی خصوصی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے تھائی لینڈ کی پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انھیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔ خیال ہے کہ ہجرت کرنے والے کئی لوگ یہاں بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔
ہر سال ہزاروں لوگ تھائی لینڈ کے ذریعے ملائیشیا سمگل کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ملائیشیا کے اخبار کا کہنا ہے کہ تازہ ترین قبریں ملائیشیا کی ریاست پرلس میں پادانگ بیسار اور وانگ کیلیان کے علاقوں کے نزدیک سے ملی ہیں۔
اخبار اتوسان ملائیشیا نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 30 اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ’سینکڑوں انسانی ڈھانچے‘ پائے گئے ہیں۔
سٹار اخبار کے مطابق ان قبروں میں ہجرت کرنے والے تقریباً 100 روہنجیا مسلمانوں کی لاشیں ہیں۔
ان علاقوں کے سمندروں میں میانمار میں جور و ستم اور بنگلہ دیش میں غربت سے تنگ آ کر فرار ہونے والے ہزاروں تارکینِ وطن کشتیوں میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
ان میں سے 3,000 سے زیادہ ملائیشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے ساحلوں پر اتارے جا چکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے سے ملائیشیا اور انڈونیشیا تارکینِ وطن کی کشتیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
میانمار نے بھی دو دن قبل ایک کشتی بچائی تھی۔
ملائیشیا اور انڈونیشیا نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ کشتیوں کو واپس سمندر میں نہیں بھیجیں گے اور ان کے ساحل پر اترنے والوں کو عارضی پناہ دی جائے گی۔
تھائی لینڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ کشتیوں کو واپس بھیجنا بند کر دے گا۔







