پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی

بی بی سی کو جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگ کاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کو جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگ کاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی

یہ کہانی سمندر میں لاپتہ ہونے والی تارکین وطن کی بہت سی کشتیوں میں سے ایک کی ہے۔

برما سے آنے والے ناامید تارکین وطن سے بھری یہ کشتی انڈونیشیا کے ایک گاؤں پہنچی ہے۔ اس سفر کے دوران تھائی لینڈ کے قریب بی بی سی کی ایک ٹیم کی اس کے مسافروں سے ملاقات ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق 13 مئی کو یہ کشتی جس پر 350 تارکین وطن سوار تھے اور جن میں سے زیادہ تر روہنجیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے سمندر میں تنہا رہ گئی تھی۔

انھیں کشتی کا عملہ بنا پانی اور کھانے پینے کی اشیا کے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

اگلے ہی روز بی بی سی کو جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگ کاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی
،تصویر کا کیپشناگلے ہی روز بی بی سی کو جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگ کاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی

اگلے ہی روز بی بی سی کو جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگکاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی۔

بی بی سی کے جانتھن ہیڈ کو کشتی پر سوار تارکین وطن نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان میں بعض طبی امداد کے منتظر دکھائی دے رہے تھے اور وہ مدد کے لیے رو رہے تھے۔

ایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں

ان میں سے بہت سے لوگوں نے پانی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ بعد میں ایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں۔

ملائشیا اور تھائی لینڈ نے اس کشتی کو اپنی اپنی بحری حدود میں لے جانے سے انکار کیا جسے مبصرین نے ’ پنگ پانگ‘ میچ کہہ کر ان کے اس عمل کی مذمت کی۔

سنیچر کو ایک تھائی صحافی تیپ ہانی ایسترکائی کو اس وقت کشتی پر جا کر جائزہ لینے کی اجازت ملی جب فوج نے اس پر سوار ہو کر انجن کو مرمت کیا اور کشتی پر موجود چند افراد کو اسے چلانے کا طریقہ بتایا۔

اطلاعات کے مطابق 13 مئی کو یہ کشتی جس پر 350 تارکین وطن سوار تھے اور جن میں سے زیادہ تر روہیجیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق 13 مئی کو یہ کشتی جس پر 350 تارکین وطن سوار تھے اور جن میں سے زیادہ تر روہیجیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے

بہت سے عینی شاہدین کے مطابق اس رات کشتی کو کھینچ کر بین الاقوامی پانیوں میں لے جایا گیا۔

تھائی لینڈ کا اس بات پر اصرار تھا کہ اس کشتی پر سوار افراد یہاں نہیں رہنا چاہتے جبکہ ایسترکائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ تارکین وطن کو مدد کی ضرورت تھی اور انھیں کہاں جانا چاہیے اس کا انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔

جب انھیں کھینچ کر لے جایا رہا تھاتو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ملائشیا کی جانب نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ مزید انڈونیشیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ان میں سے بہت سے لوگوں نے پابی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنان میں سے بہت سے لوگوں نے پابی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا

پیر کو موسمیاتی رپورٹ میں مون سون کی وجہ سے سمندر میں تلاطم کے امکان کی تنبیہ کی گئی تھی لیکن بی بی سی ٹیم کی اس خطے میں کشتی تلاش کرنے کی کوشش بے سود ثابت ہوئی۔

تاہم بدھ کے روز انڈونیشیا میں وسطی آچے کے ساحل پر اسے دیکھا گیا۔

یہ کشتی آخر کار میانمر سے نکلنے کے دس ہفتے اور پہلی بار تھائی لینڈ میں ملنے کے چھ دن بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

یہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں
،تصویر کا کیپشنیہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں

تارکین وطن نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بتایا کہ ملائشیا کے حکام انڈونیشیا تک تقریباً تمام راستے ان کے ساتھ رہے۔

بی بی سی ٹیم نے دیکھا کہ تارکین وطن کئی ہفتوں تک شدید ہولناک حالات میں رہ رہے تھے۔

پروڈیوسر ژن یان یو نے بتایا کہ جب وہ بعد میں کشتی پر گئے تو وہاں شدید بد بو تھی اور ہر طرف کپڑے، پلاسٹک کی بوتلیں اور پلیٹیں بکھری پڑی تھیں۔

آچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔

آچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا

تارکین وطن کو مزید کارروائی کے لیے بسوں پر سوار کرا کر قریبی قصبے لنگسا لے گئے تھے۔

ان کی آمد کے ساتھ ہی ملائشیا اور انڈونیشیا کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ وہ تارکین وطن کی کشتیوں کو نہ نکالیں گے اور نہ دھکیلیں گے۔

دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن کو عارضی رہائش دیں گے اور ان کی آباد کاری کا عمل ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔

یہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

تارکین وطن کو مزید کارروائی کے لیے بسوں پر سوار کرا کر قریبی قصبے لنگسا لے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتارکین وطن کو مزید کارروائی کے لیے بسوں پر سوار کرا کر قریبی قصبے لنگسا لے گئے تھے