کے لے بحران، ’فرانس برطانوی شہریوں کو ہرجانہ ادا کرے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کی قائم مقام سربراہ نے وزیرِ اعظم سے کہا ہے کہ وہ فرانس کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ ’کےلے‘ کی بندرگاہ کے بحران سے متاثر ہونے والے برطانوی شہریوں کو ہرجانہ ادا کیا جائے۔
ہیری اٹ ہارمن نے کہا کہ برطانوی افراد یا کاروبار ’سرحد پر سکیورٹی کی ناکامیوں‘ کی وجہ سے ہونے والا نقصان کیوں اٹھائیں۔
تاہم برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا ہے کہ الزام تراشی مسئلے کے حل کا صحیح راستہ نہیں ہے۔
کےلے پر جمع پناہ گزین رات کو برطانیہ اور فرانس کےدرمیان واقع رود بار (چینل) کو پار کے برطانیہ پہنچنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس دونوں نے صورتِ حال پر قابو پانے کا عہد کیا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پہلے ہی کےلے کے لیے سونگھ کر پتہ چلانے والے سِدھے ہوئے اضافی کتوں اور باڑ کی پیشکش کی ہے۔
سنیچر کو فیری اور یورو ٹنل کی خدمات نظام الاوقات کے مطابق رہیں اگرچہ اس سے قبل یہ تاخیر کا شکار تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانیہ کی حکومت نے پناہ گزینوں کو برطانیہ داخل ہونے سے روکنے کے لیے ’آپریشن سٹیک‘ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت تاخیر کا شکار ہونے والی گاڑیاں کینٹ کے موٹر وے ایم ٹوئنٹی پر قطاریں بناتی ہیں۔ تاہم پولیس کے مطابق اس کارروائی کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب موٹروے دونوں اطراف سے کھلا ہے۔
وزیرِ اعظم کے نام خط میں لیبر کی راہنما ہیری اٹ ہارمن نے کہا کہ برطانوی حکومت نے کےلے میں صورتِ کے خراب تر ہونے کے بارے میں ’بار بار ملنے والے انتباہ‘ کو نظر انداز کیا۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے کاروبار اور خاندانوں کو اس مسئلے کی وجہ سے جو نقصان بھرنے پڑ رہے ہیں وہ ’غلط‘ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور انھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم، فرانس کی حکومت سے درخواست کریں کہ وہ ایسے تمام نقصانات کو بھرے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس کے لیے ’ضروری سفارتی دباؤ ڈالنا پڑے تو ڈالا جائے‘۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ہیری ایٹ ہارمن نے اپنے خط میں وزیرِ اعظم سے کہا ’گزشتہ چند دنوں میں آپ نے جو طریقۂ کار اختیار کیا ہے وہ ’کےلے‘ کے بحران کے ٹھوس حل سے عاری ہے۔ آپ نے فرانس پر کوئی سفارتی دباؤ نہیں ڈالا کہ وہ پناہ کی درخواستوں کا تجزیہ کرے اور یقینی بنائے کہ امیگریشن کے قواعد پرمناسب عمل ہو۔ اس کے برعکس آپ نے معاملات بڑھاکانے کے لیے آگ لگانے والی جو زبان استعمال کی ہے اس سے صورتِ حال صرف خراب ہوگی۔‘
وزیرِ اعظم نے پناہ گزینوں کو ’جھنڈ‘ قرار دیا تھا جس کے بعد ان پر کافی تنقید ہوئی تھی۔
لیبر رہنمانے امید ظاہر کی کہ وزیرِ اعظم فرانس اور یورپی ملکوں کے ساتھ ’ہنگامی طور پر سفارتی کوشش‘ کا آغاز کریں گے۔ انھوں نے وزیرِ اعظم سے کہا وہ بتائیں کہ طویل المدت میں انسانوں کے غیرقانونی کاروبار اور ’پناہ گزینوں کے بحران‘ سے نمٹنے کے ان کی کیا منصوبہ بندی ہے۔
ادھر سکاٹ لینڈ کی وزیر نے بھی مسٹر کیمرون کو خط لکھا ہے جس میں کےلے کے بحران پر تشویش ظاہر کی ہے۔







