’یونان کے پاس قرض واپس کرنے لیے پیسے نہیں ہیں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یونان کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک پانچ جون کو عالمی مالیاتی فنڈ کو قرض کی رقم واپس نہیں کر سکتا کیونکہ پیسے نہیں ہیں۔
نائیکوس واؤٹسِس نے ’گریک ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ’جون میں یونان کو چار قسطوں میں ایک ارب 60 کروڑ یورو عالمی ادارے کو واپس کرنے ہیں لیکن یہ رقم ادا نہیں کی جائے گی کیونکہ پیسے ہیں نہیں۔‘
یونان کو معاشی بحران سے بچانے کے تحت یورپی یونین اور عالمی مالیاتی فنڈ سے آخری قسط لینے کے لیے کسی نہ کسی معاہدے پر پہنچنا پڑے گا۔
یونان کے وزیرِ خزانہ یانس ویروفاکس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
یانس کا کہنا تھا کہ یونان نے معاہدے کی شرائط پوری کرنے کے لیے اپنے طور پر بہت محنت کی ہے اور اب عالمی اداروں پر ہے کہ وہ اسی انداز میں جواب دیں۔
بی بی سی کے ’انڈریو مار شو‘ پر انھوں نے کہا ’یونان نے اس معاہدے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔ بات اب عالمی اداروں پر آ کر رک گئی ہے۔ ہم نے تین چوتھائی کام کیا ہے اب ایک چوتھائی کام ان کا ہے۔ ‘
یونانی حکومت، یورپی اتحاد اورعالمی مالیاتی فنڈ چار ماہ سے یونان میں ان اصلاحات کے پروگرام پر مذاکرت کر رہے ہیں جو عالمی اداروں کے بقول یونان کو رقم دینے جانے سے پہلے نافذ ہونا لازمی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آخری مرتبہ گذشہ سال اگست میں عالمی قرض دہندگان نے یونان کو کیش رقم دی تھی جبکہ سات ارب 20 کروڑ یورو کی آخری قسط جو عالمی فنڈ اور یورپی اتحاد کی طرف سے دو حصوں میں دیے جانے والے 240 ارب یورو کے معاہدے کا حصہ ہے، بہت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس سے پہلے رقم کی ادائیگی کے لیے پانچ جون کی حتمی تاریخ یونان کے سامنے ہے۔ اگر یونان قرض دہندگان کے ساتھ معاہدہ نہ کر سکا تو خطرہ ہے کہ وہ ڈیفالٹ کر جائے گا۔
اس سے یونان یورو کو ترک کرنے کی طرف بڑھ جائے گا جسے ’گریزیگزٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا ایسا ہوا تو ’سب کے لیے آفت آ جائے گی۔‘
’یہ یونان کی سماجی معیشت کے لیے بہت بڑی آفت ہوگی لیکن یہ یورپ میں مشترکہ کرنسی کے منصوبے کے اختتام کا آغاز بھی ہوگا۔‘
یونان کو بانڈ مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے اور موجودہ ڈیڈ لاک کی وجہ سے ایتھنز کو اپنے قرض کی ادائیگی پبلک سیکٹر میں تنخواہیں دینے اور پینشن دینے میں بہت مشکل ہو رہی ہے۔







