ناراض یونان روس کےساتھ جا سکتا ہے؟

یونان

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنیونان کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے نئے قرضے چاہییں

یونان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط سے یورپ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف یونان کے رہنما بین الاقوامی قرض خواہوں سے دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے اصلاحات پر بحث و تکرار کر رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ یونان ماسکو کو سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہو، لیکن کچھ لوگوں کو ڈر ہے کہ یونان مغرب سے دور ہوتا جا رہا ہے، اور ایک فیاض اتحادی، ممکنہ سرمایہ کار اور قرض دینے والے کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

یورپ خوش نہیں ہے۔ اسے فکر مند ہی ہونا چاہیے۔

یونان کے کابینہ کے اراکین کی ایک بڑی تعداد جلد ہی ماسکو جانے والی ہے۔

مئی میں روسی صدر یونان کے وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس کی میزبانی کریں گے اور یونانی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ان کے اتحادی پارٹنر پانوس کامینوس، وزیرِ دفاع اور دائیں بازو کی جماعت انڈی پینڈنٹ گریکس پارٹی کے رہنما ہوں گے۔

تجزیہ کار اس بات میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں کہ یہ ملاقات کس وقت ہو رہی ہے۔

یونان کے بیل آؤٹ میں توسیع کی معیاد جون میں پوری ہو جائے گی اور یونان کو یقیناً ملک چلانے کے لیے نئے قرضوں کی ضرورت پڑے گی۔

الیکس تسیپراس

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنالیکس تسیپراس مئی میں ماسکو کا دورہ کریں گے جسے تجزیہ نگار بہت اہمیت دے رہے ہیں

اگرچہ یونان فنڈنگ کے کسی متبادل کی تلاش میں نہیں ہے، لیکن روس یا شاید چین سے قرضے یوروزون کے اقدامات اور اصلاحات کے پیکج سے زیادہ پسندیدہ متبادل نظر آتا ہے۔

یونان کی کوشش ہو گی کہ وہ مشکل میں پھنسے عوام کے لیے سستی گیس لے سکے اور روس سے زیادہ سے زیادہ لوگ سیاحت کے لیے یہاں آئیں تاکہ کچھ اقتصادی بہتری آ سکے۔ اس کے بدلے میں ماسکو کو یوکرین کے بحران کے عروج پر یورپی یونین میں ایک ایسا اتحادی چاہیے جس کے پاس ویٹو پاور ہو۔

جیسے ہی سریزا جماعت 25 جنوری کو الیکشن جیتی اس کی ماسکو سے قریبی تعلقات کی نیت ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھی۔

24 گھنٹوں کے دوران جس پہلے اہلکار نے نو منتخب وزیرِ اعظم سے ملاقات کی وہ روسی سفارت کار تھے، جبکہ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کو مبارک باد کا ایک تار بھیجنے میں دو دن لگے۔

یونانی وزیرِ خارجہ بنتے ہی نائکوس کوزیاس نے یوکرین کے بحران کے تناظر میں یورپی یونین کی روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے جواز اور موثر ہونے پر سوالات اٹھائے اور پہلے ہی دن سے وزیرِ خارجہ نے روس کے ساتھ مضبوط تعلقات پر زور دیا۔

سریزا جماعت کے دوسرے اہلکاروں کی طرح تسیپراس اور کوزیاس بھی سیاسی طور پر روس کی حمایت یافتہ گریک کمیونسٹ پارٹی سے ہی آئے ہیں۔