یونان: قرض کے معاہدے کا وقت نکلتا جا رہا ہے

یوروزون

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناگر یونان ڈیفالٹ کرتا ہے تو اسے یورو چھوڑنا پڑے گا

یوروگروپ کے سربراہ جرون دیشلبوم نے خبردار کیا ہے کہ یونان کے قرض کے معاہدے کا وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔

لیٹویا کے دارالحکومت رِگا میں یوروزون کے مالی امور کے وزرا کے اجلاس سے قبل انھوں نے کہا کہ معاہدے کے لیے بڑی جلدی کی ضرورت ہے۔

وزرا کی کوشش ہے کہ یونان کو واجب الادا قرض کی اقساط پر اجلاس میں معاہدہ ہو جائے۔

یونان کو اپنے قرض دہندگان کو اگلے ماہ ایک ارب یورو ادا کرنا ہے اور اسے یہ رقم اکٹھی کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اس سے قبل یونانی حکومت نے اپنے پبلک سیکٹر کے اداروں سے کہا تھا کہ جو بھی اضافی کیش ان کے پاس ہے وہ حکومت کو دے دیں تاکہ قسط ادا کی جائے۔

رِگا میں یوروگروپ کے اجلاس سے قبل جرون دیشلبوم نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ معاہدہ جلد ہو جائے تاکہ یونان کو وہ حمایت مل سکے جس کی اسے ضرورت ہے۔

یوروزون کے وزرا انتظار کر رہے ہیں کہ ایتھنز ملک کے مالی حالات کی بہتری کے لیے اقتصادی اصلاحات کے تفصیلی پیکج کا اعلان کرے۔ وزرا نے یونان کی مزید مدد کے لیے اصلاحات کی شرط رکھی ہے۔

رِگا میں مذاکرات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنرِگا میں یونان اور سپین کے مالی امور کے وزرا آپس میں بات کرتے ہوئے۔ یونانی وزیر اپنے ہسپانوی ہم منصب کی بات دھیان سے سن رہے ہیں

کئی ایک سمجھتے ہیں کہ رِگا میں معاہدہ نہیں ہو پائے گا۔

سلوواکیا کے مالیات کے وزیر پیٹر کازمیر کہتے ہیں: ’مجھے آج تقریباً کوئی توقع نہیں۔ مواد ہی نہیں ہے، یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ وقت نکلتا جا رہا ہے اور ہمارے پاس سیاسی یا سفارتی گپ شپ کا وقت نہیں۔‘

جمعے کو یونان کے مالیاتی امور کے وزیر یانس واروفاکس نے ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ ایتھنز اور اس کے قرض دہندگان بہت سے امور پر اتفاق کرتے ہیں جن میں سے قابلِ ذکر یونان کا ٹیکس اور پینشن کا نظام اور اس کی لیبر مارکیٹ ہے، جہاں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

یونان کی نئی بائیں بازو کی حکومت سیریزیا قرض پر اس پر اس کے قرض دہندگان کا دباؤ ہے کہ وہ اخراجات میں کمی کرے اور ٹیکسوں کی آمدنی میں اضافہ۔ لیکن اس نے جیت کے بعد کہا تھا کہ وہ یوروپی اتحاد، یورپی سینٹرل بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی طرف سے مسلط کیے گئے کفایت شعاری اختیار کرنے جیسے اقدامات کو ختم کر دے گی۔

اقتصادی منڈیوں میں تشویش ہے کہ اگر حکومت قرض دہندگان کے ساتھ کسی معاہدے پر نہ پہنچتی تو یونان اپنے قرض سے ڈیفالٹ کر جائے گا اور آخر کار اسے یورو چھوڑنا پڑے گا۔