’قطر غیرملکی مزدوروں کے لیے حالات بہتر بنانے میں تاحال ناکام‘

ایک اندازے کے مطابق قطر میں اس وقت 15 لاکھ غیر ملکی مزدور موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق قطر میں اس وقت 15 لاکھ غیر ملکی مزدور موجود ہیں

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ قطر میں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کے حالات میں نہ ہونے کے برابر بہتری ہوئی ہے اور قطر ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

قطر سنہ 2022 میں منعقد ہونے والے فٹ بال کے عالمی مقابلوں کا میزبان ہے اور وہاں اس سلسلے میں جاری تیاریوں کے دوران غیر ملکی کارکنوں کے حالاتِ کار اور رہائش کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔

ان تیاریوں کے آغاز کے چھ ماہ کے اندر اندر ہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے خبردار کر دیا تھا کہ قطر غیر ملکی مزدوروں کا استحصال روکنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

اس پر قطری حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔

اس صورت حال پر مسلسل نظر رکھنے والی ایمنیٹسی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ کچھ شعبہ جات میں حالات تھوڑے بہت بہتر ہوئے ہیں جبکہ کچھ میں اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

قطری حکام کا کہنا ہے کہ سالِ رواں کے آخر تک اہم تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ایمنیسٹی کی یہ تازہ رپورٹ ایسے موقع پر آئی ہے جب ورلڈ کپ 2022 کے دو بڑے سپانسر اداروں کوکاکولا اور ویزا نے بھی کارکنوں کے حقوق کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

قطری حکام کا کہنا ہے کہ سالِ رواں کے آخر تک مزدوروں کے بارے میں قوانین میں اہم تبدیلیاں ہوں گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقطری حکام کا کہنا ہے کہ سالِ رواں کے آخر تک مزدوروں کے بارے میں قوانین میں اہم تبدیلیاں ہوں گی

قطر میں اس وقت 15 لاکھ غیرملکی کارکن موجود ہیں جن میں سے بیشتر ان تعمیراتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں جو ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں جاری ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر نے گذشتہ برس اس قانون کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کے تحت غیر ملکی مزدور ایک ہی آجر کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور ہیں اور انھیں ملک سے واپس جانے کے لیے بھی اس کمپنی کی اجازت درکار ہوتی ہے جو انھیں قطر لائی تھی۔

حقوقِ انسانی کی تنظیم کے مطابق یہ وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہو سکا ہے تاہم صرف ایک تبدیلی جو لائی گئی ہے وہ تنخواہوں کے تحفظ کا نظام ہے جو یقینی بناتا ہے کہ ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہ ملے تاہم اس کے نفاذ میں بھی سستی دکھائی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں ایک غیر ملکی کارکن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس نے ایمنیٹسی کو بتایا کہ اسے قطر آئے پانچ ماہ ہونے کو ہیں مگر ابھی تک تنخواہ نہیں ملی۔

اس کارکن کا کہنا تھا کہ ’میں کام کر کے اپنے اہلِ خانہ کے لیے رقم کمانا چاہتا ہوں لیکن اپنے کفیل کی وجہ سے میں نوکری تبدیل بھی نہیں کر سکتا۔‘

 قطر فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کی جانے والی تعمیرات پر دو سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن قطر فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کی جانے والی تعمیرات پر دو سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے

خلیجی ممالک میں کارکنوں کے حقوق پر تحقیق کرنے والے ایمنسٹی کے محقق مصطفیٰ قادری کے مطابق ’قطر غیر ملکی مزدوروں کا خیال رکھنے میں ناکام رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قطر کی جانب سے گذشتہ برس کیے گئے وعدوں کی ناکامی اور انھیں 2022 کے ورلڈ کپ کی میزبانی سے ہاتھ نہ دھونے کی ایک کوشش قرار دیے جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔‘

ایمنیسٹی نے اپنی رپورٹ میں فٹبال کی نگران تنظیم فیفا سے بھی کہا ہے کہ یہ ’واضح طور پر اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قطر پر مزید اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔‘

تاہم قطر کے وزیرِ محنت ڈاکٹر عبداللہ الکلافی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ورلڈ کپ کو تبدیلی کے موقعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور انھیں بڑی حد تک یقین ہے کہ مزدوروں کے بارے میں قوانین میں رواں برس کے آخر تک ترامیم ہو جائیں گی۔

ایک اندازے کے مطابق قطر فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کی جانے والی تعمیرات پر دو سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کی وجہ سے ریاست بھر میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں تیزی آ گئی ہے۔