قطر میں مزدوروں پر رپورٹ بنانے پرگرفتاری

ورلڈ کپ سے قبل قطر میں دوسرے ملکوں سے آئے کارکنوں کے کام کرنے اور ان کی رہائشی صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنورلڈ کپ سے قبل قطر میں دوسرے ملکوں سے آئے کارکنوں کے کام کرنے اور ان کی رہائشی صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا

ہمیں قطری وزیر اعظم کے دفتر سے دوسرے ملکوں سے آکر کم تنخواہ پر کام کرنے والے کارکنوں کے لیے بنائے گئے نئے پر تعیش رہائشی منصوبے کا دورہ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا لیکن جب ہم اپنی رپورٹ کے لیے اضافی معلومات اکھٹی کر رہے تھے تو اس دوران ہمیں اپنا کام کرتے ہوئے جیل میں ڈال دیا گیا۔

ہماری گرفتاری ڈرامائی تھی۔

دارالحکومت دوحہ میں ایک بڑی سڑک پر ہم نیپال سے آئے کارکنوں کے ایک گروپ کی فلم بنانے کے لیے جا رہے تھے۔ ورلڈ کپ سے قبل قطر میں دوسرے ملکوں سے آئے کارکنوں کے کام کرنے اور ان کی رہائشی صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ہم انھیں خود جا کر دیکھنا چاہتے تھے۔

اچانک آٹھ سفید رنگ کی گاڑیوں نے ہماری گاڑی کو گھیر لیا اور ہم سے رکنے کو کہا۔

ایک درجن کے قریب سکیورٹی اہلکار ہمیں آہستہ سے ایک گلی میں لے گئے۔ جیسے ہی ہم نے ان سے بات کرنا چاہی تو انھوں نے ہم پر چلانا شروع کر دیا۔ انھوں نے ہم سے تمام سامان اور ہارڈ ڈسکیں لے لیں اور ہمیں ہیڈکوارٹر لے گئے۔

بعد میں شہر کے مرکزی پولیس سٹیشن میں کمیرا مین، مترجم، ڈرائیور اور مجھ سے ایک انٹیلیجنس اہلکار نے علحیدہ علحیدہ تفتیش کی، اور سوالات کرنے کا یہ عمل بہت جارحانہ تھا۔

ہم پر کوئی الزام تو نہیں لگایا گیا تھا لیکن وہ ہم سے بار بار پوچھ رہے تھے کہ ہم نے کیا کیا ہے اور کس سے ملے ہیں؟

اچانک آٹھ سفید رنگ کی گاڑیوں نے ہماری گاڑی کو گھیر لیا اور ہم سے رکنے کو کہا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناچانک آٹھ سفید رنگ کی گاڑیوں نے ہماری گاڑی کو گھیر لیا اور ہم سے رکنے کو کہا

تفتیش میں وقفے کے دوران مجھ سے ایک اہلکار نے کہا کہ مجھے فون کال کر کے کسی کو اطلاع دینے کی اجازت نہیں ہے۔

اس دوران ایک تفتیشکار نے ایک فائل نکالی جس میں میرے پہنچنے سے لے کر اس وقت تک کی تمام تصاویر موجود تھی جس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارا پیچھا کر رہے تھے۔

یہ سب تصاویر دیکھ کر میں حیران ہو گیا تھا۔ ایک بجے وہ ہمیں مقامی جیل میں لے گئے۔

ویسے تو یہ ہمارے دورے کا پہلا دن تھا لیکن ہمیں ہتھکڑیاں پہنا کر دوسری بار پوچھ گچھ کے لیے پبلک پراسیکیوشن لے جایا جا رہا تھا۔

13 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد جب پوچھ گچھ کا آغاز ہوا تو ایک اہلکار نے کہا: ’ یہ ڈزنی لینڈ نہیں ہے۔ آپ کہیں بھی کیمرا لے کر نہیں گھوم سکتے۔‘

بلکل صحیح انگریزی زبان اور بے دلی کے ساتھ اس نے ہمیں سبق سکھانے کے لیے چار مزید دن جیل میں رکھنے کی دھمکی دی۔

میں نے جیل میں اپنی دوسری رات کا آغاز ایک گندے سے گدّے پر کیا۔ کم از کم ہم گذشتہ دن کی طرح بھوکے نہیں رہے کیونکہ ایک محافظ کو ہم پر ترس آیا اور اس نے ہمیں روسٹ مرغ اور چاول کھانے کو دیے۔

دوسرے دن کے پہلے پہر جیسے ہمیں اچانک گرفتار کیا گیا تھا ویسے ہی اچانک ہمیں چھوڑ دیا گیا۔

اس سب کے بعد ہمیں صحافیوں کے لیے ترتیب دیے گئے دورے میں شامل ہونے کی اجازت دے دی گئی جس کے لیے ہم یہاں آئے تھے۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ تاہم ہمارا سامان ان کے قبضے میں ہی تھا۔

قطر کی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی جو کہ فیفا کو جوابدہ ہے اس دورے کے لیے مدد فراہم کر رہی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنقطر کی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی جو کہ فیفا کو جوابدہ ہے اس دورے کے لیے مدد فراہم کر رہی تھی

میں یہ سب اب اس لیے رپورٹ کر رہا ہوں کیونکہ ہم پر لگی سفری پابندی ختم ہو گئی ہے۔

قطر غیر ملکی میڈیا کے آنے کا خیر مقدم کیوں کرتا ہے جب کہ انھیں قید میں رکھا جاتا ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیل کے ایونٹ کی میزبانی کرتے ہوئے قطر اس دوران میڈیا کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا یہ بات باعثِ تشویش ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مصطفیٰ قادری نے بتایا ہے کہ ’صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو قید کرنے کا مقصد انھیں قطر میں مزدوروں کے ساتھ ہونے والے برے سلوک سے پردا ہٹانے سے روکنا ہو سکتا ہے۔‘

قطر کی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی جو کہ فیفا کو جوابدہ ہے اس دورے کے لیے مدد فراہم کر رہی تھی۔

فیفا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہونے والے واقع کی تحقیقات کر رہا ہے۔