قطر میں غیر ملکی مزدوروں سے متعلق قوانین میں نرمی

قطر میں لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی مزدور ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنقطر میں لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی مزدور ہیں

قطر کی حکومت نے 2022 میں فٹ بال عالمی کپ کے حوالے سے شدید تنقید کے پیشِ نظر ملک میں غیر ملکی مزدوروں سے متعلق ایک متنازع قانون تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فٹ بال ٹورنامنٹ سے قبل تارکینِ وطن مزدوروں کی آمد کی وجہ سے قطر پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ملک کے اس قانون کو تبدیل کرے جس کے تحت غیر ملکی صرف ایک ہی کمپنی یا کفیل کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان قوانین کو دورِ جدید میں غلامی کے نظام کے مترادف قرار دیا ہے۔

کفالت کے قانون میں تبدیلی ملک میں لیبر قوانین میں وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہیں اور اس پر عمل درآمد کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔

قطر میں لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی مزدوروں پر مشتمل ہے۔

گذشتہ سال قطر میں 180 غیر ملکی تارکینِ وطن مزدور غیر محفوظ پیشہ ورانہ سہولیات کے باعث ہلاک ہو گئے تھے اور ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد کے زخمی ہونے کے خدشات بھی ہیں۔

اس کے علاوہ ان مزدوروں کی رہائشی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

حکام نے دارالحکومت دوحہ میں بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں لیبر قوانین میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ ملازمتی معاہدوں پر مبنی نظام متعارف کروا سکیں گے۔

ان اصلاحات میں یہ بھی کوشش ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جا سکے جس کے تحت ملازمین کو ملک چھوڑنے سے پہلے اپنے کفیل سے اجازت لینا ہوتی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک قطری کلب کے ساتھ اجرت کے تنازعے کے باعث ایک فرانسیسی الجیریا نژاد فٹبال کھلازی کو تقریباً ایک سال تک ملک سے باہر جانے نہیں دیا گیا تھا۔

فروری میں 2022 کے ورلڈ کپ کے منتظمین نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی جانب سے دباؤ کے بعد مزدوروں کے حقوق بہتر بنانے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔