سنہ 2018 کا عالمی فٹبال کپ روس ہی میں ہوگا:فیفا

گذشتہ سال جون کے مہینے میں برازیل اور جاپان کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران شائقین نے برازیل کی صدر روسیف اور فیفا کے سربراہ بلیٹر کا مذاق اڑایا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال جون کے مہینے میں برازیل اور جاپان کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران شائقین نے برازیل کی صدر روسیف اور فیفا کے سربراہ بلیٹر کا مذاق اڑایا تھا

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے کہا ہے کرائمیا کو اپنے ملک میں شامل کرنے کے باوجود سنہ 2018 کاعالمی کپ روس میں ہوگا۔

اس سے پہلے برطانوی پارلیمان میں لیبر پارٹی کے رکن اینڈی برن ہم نے روس میں سنہ 2018 کے عالمی فٹبال کپ کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بی بی سی سپورٹ کو بتایا تھا کہ’فیفا سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔‘

لیکن جب فیفا کے سربراہ سے جمعے کو اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ’عالمی کپ کے انعقاد کے لیے روس کو ووٹ دیا گیا ہے اور ہم اسی بنیاد پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

سیپ بلاٹر نے یہ باتیں جمعے کو زیورخ میں کہی جہاں فیفا کے اخلاقیات کے پرسیکیوٹر نے فیفا کے ایکزیکٹیو کمیٹی کے اراکین کو سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے عالمی فٹبال مقابلوں کے انعقاد کے معاملے پر انٹرویو کیا جو بالترتیب روس اور قطر میں ہونے ہیں۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جمعے کو ایک قانون پر دستخط کر لیے ہیں جس کے تحت کرائمیا کو رسمی طور پر روس میں شامل کر دیا گیا ہے جبکہ امریکہ اور یورپی یونین نے روس پر پابندیاں بھی عائد کیں ہیں لیکن سیپ بلاٹرنے کہا کہ ان واقعات کا سنہ 2018 کے عالمی کپ کا روس میں انعقاد پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

برن ہم کا خیال تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ فیفا روس کے خلاف کارروائی کرے:’روس سب ایک ساتھ نہیں کر سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’وہ کھیل کے بڑے عالمی مقابلوں کا انعقاد کرکے اپنی عالمی ساک میں بہتری اور شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن سوچی اولمپکس کے چند دن بعد ہی انھوں نے اپنے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا اور اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔‘

برطانوی رکنِ پارلیمان کا کہنا تھا کہ ولادی میر پوتن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بین ولاقوامی کلب کا حصہ ہیں یا وہ اکیلے رہنا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا تھا کہ میرے خیال میں پوتن کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے۔