آئرلینڈ میں ہم جنس پرست افراد کے حق میں فیصلہ

،تصویر کا ذریعہReuters
آئرلینڈ میں ایک جج نے فیصلہ دیا ہے کہ بیلفاسٹ کی ایک عیسائی دکاندار کی بیکری نے ایک ہم جنس پرست صارف کا آرڈر نہ لے کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
ہم جنس پرست لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن گیرتھ لی نے ایشرز بیکنگ کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس سے جج نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ملک کے انسدادِ امتیازی سلوک کے قانون کے دائرے میں آتا ہے۔
بیلفاسٹ میں ایک جج نے کہا کہ ایشرز کو ایک بزنس کی حیثیت سے ملک میں امتیازی سلوک کے خلاف قوانین سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
جج نے تسلیم کیا کہ ایشرز گہرے مذہبی جذبات رکھتے ہیں لیکن کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیکری کے مالکان نے مسٹر لی کے خلاف ان کی جنسی فطرت اور سیاسی عقیدے دونوں کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا ہے۔
جب فیصلہ سنایا گیا تو بی بی سی کے آئرلینڈ میں رپورٹر مارک سیمسن عدالت میں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا فریقین نے تحمل اور احترام سے فیصلہ سنا۔
ایشر خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ سب صارفین سے اچھا سلوک کرتے ہیں لیکن وہ اپنے کیکوں پر کوئی ایسی چیز نہیں لکھ سکتے جو ان کے مذہب کے خلاف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مقدس کتاب انجیل شادی اور انسانی فطرت کے قوانین کے بارے میں بہت واضح ہے اور وہ اس کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے۔
عدالت کے فیصلے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے شمالی آئرلینڈ کے ڈپٹی فرسٹ منسٹر مارٹن مگینّس نے کہا کہ ہم جنس پرست افراد عرصۂ دراز سے امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ فیصلہ معاشرتی برابری کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
تاہم آئر لینڈ میں کچھ سیاسی جماعتوں نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی یو پی پارٹی کے ڈیوڈ مکلوین نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کو کوفت اور تعجب ہے کہ ایک عیسائی کاروبار کو ایسی چیز کی تشہیر نہ کرنے کی سزا ملی ہے جو شمالی آئرلینڈ میں غیر قانونی ہے۔
یونینسٹ وائس کے رہنما جم الیسٹر نے کہا کہ یہ انصاف اور مذہبی آزادی کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔







