ورلڈ کپ میں امتیازی نعروں کی تحقیقات

،تصویر کا ذریعہAP
فٹبال کی عالمی منتظم تنظیم فیفا نے ورلڈ کپ میں کیمرون کے خلاف میچ میں میکسیکو کے حامیوں کی جانب سے امتیازی کلمات پر مبنی نعرے بازی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایک بیان میں فیفا نے کہا ہے کہ تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا میکسیکن تماشائیوں کا رویہ ’غیرمناسب‘ تھا یا نہیں۔
فیفا کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران برازیل، روس اور کروئیشیا کے تماشائیوں کی جانب سے مبینہ امتیازی سلوک کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
فیفا نے صنفی اور جنسی امتیاز کے بارے میں گذشتہ برس ہی سخت قوانین متعارف کروائے ہیں۔
تنظیم کے قانون کے مطابق اگر کسی ٹیم کے تماشائیوں پر اس قسم کا الزام پہلی بار ثابت ہو تو اس کی سزا میچ میں تماشائیوں کی عدم موجودگی بھی ہو سکتی ہے۔
مبینہ طور پر میکسیکو کے خلاف میچ میں تماشائیوں نے کیمرون کے کھلاڑیوں پر آوازیں کسی تھیں اور نامناسب اور قابلِ اعتراض الفاظ پر مشتمل نعرے لگائے تھے۔
فیفا کا کہنا ہے کہ اگر تماشائیوں کا اس قسم کا رویہ برقرار رہتا ہے تو پھر اس کی سزا ان کی ٹیم کے پوائنٹس کی کٹوتی اور مقابلوں سے اخراج تک بھی ہو سکتی ہے۔
فیفا کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ثبوت ہیں کہ جنوبی کوریا کے خلاف میچ میں روس کی جانب سے انتہائی دائیں بازو کے خیالات پر مبنی بینر لہرایا گیا اور ایسا ہی کچھ برازیل اور کروئیشیا کے میچ میں بھی ہوا تھا۔



