ریڈیکلائزیشن سے نمٹنے کے لیے برطانیہ میں نئے قوانین

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ملک میں ریڈیکلائزیشن یا سخت گیر خیالات کی تشہیر کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم ملک کی قومی سلامتی کونسل کو بتانے والے ہیں کہ برطانیہ ضرورت سے زیادہ عرصے تک ’مزاحمت نہ کرنے والا متحمل مزاج معاشرہ‘ رہ چکا ہے۔
ڈیوڈ کیمرون کہیں گے کہ شدت پسندی کے ’زہریلے‘ نظریات کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
وہ کونسل کو یہ بھی مطلع کریں گے کہ 27 مئی کو ملکۂ برطانیہ کی تقریر میں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کا ذکر بھی ہوگا۔
اس قانون کے تحت امیگریشن کے نئے قوانین لائے جائیں گے اور شدت پسندوں کے زیرِ استعمال دفاتر کو بند کرنے کے علاوہ ’ایکسٹریم ازم ڈسرپشن آرڈر‘ بھی متعارف کروایا جائے گا۔
ان قوانین کا مسودہ برطانوی سیکریٹری داخلہ تھریسا مے نے عام انتخابات سے قبل تیار کیا تھا لیکن اس وقت کنزرویٹو پارٹی اس سلسلے میں اپنی اتحادی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کو رضامند نہیں کر سکی تھی۔
امورِ داخلہ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار ڈینی شا کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی نئی پارلیمان میں بھی اس بنیاد پر ان قوانین کی مخالفت کا امکان موجود ہے کہ ان میں سے کچھ اظہارِ رائے کی آزادی سے متصادم ہیں۔
نئے قوانین کے تحت ایسی شدت پسند تنظیموں کے عوامی مقامات پر ہونے والے اجتماعات پر پابندی لگائی جا سکے گی جو نفرت آمیز پیغامات دیتی ہیں لیکن ان کی سرگرمیاں انھیں دہشت گرد یا کالعدم تنظیم قرار دینے کے لیے ناکافی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی حکومت کے منصوبے کے تحت ملک کے خیراتی کمیشن کو زیادہ اختیارات دیے جائیں گے تاکہ وہ ایسے خیراتی اداروں کا قلع قمع کر سکے جو انھیں ملنے والی امداد سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ پر نظر رکھنے والا ادارہ آف کام بھی ایسے چینلز کے خلاف کارروائی کر سکے گا جو شدت پسندی کے نظریات کی تشہیر کرتے ہیں۔
قومی سلامتی کونسل کے ہفتہ وار اجلاس میں ڈیوڈ کیمرون یہ بھی کہیں گے کہ یہ نئے قوانین لوگوں کے لیے شدت پسندی کی تشہیر مشکل بنا دیں گے۔
وہ کہیں گے کہ ’ضرورت سے زیادہ عرصے تک ہم ایک مزاحمت نہ کرنے والا متحمل مزاج معاشرہ رہے ہیں اور اپنے شہریوں کو کہتے رہے ہیں کہ جب تک آپ قانون نہیں توڑتے ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘
برطانوی وزیرِ اعظم کہیں گے کہ ’ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم مختلف روایات کے درمیان غیر جانبدار رہتے ہیں اور اس سے شدت پسندی اور بدلہ لینے کے خیالات پنپتے ہیں۔‘







