تین بڑوں کا استعفیٰ، ٹوری پارٹی انتخاب جیت گئی

ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ سمانتھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکنزرویٹو جماعت کی فتح کے بعد ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ سمانتھا لندن میں کنزرویٹو جماعت کے صدر دفتر کے باہر

کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ پورے برطانیہ کا انتظام چلائیں گے۔

برطانیہ میں عام انتخابات کے مکمل نتائج کے مطابق 650 میں 331 نشستیں جیت کر کنزرویٹو پارٹی 330 دارالعوام میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

لیبر پارٹی نے 232 ، سکاٹش نیشنل پارٹی نے 56 اور لبرل ڈیموکریٹس نے 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ ڈیوڈ کیمرون برطانوی روایت کے مطابق ملکۂ برطانیہ سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد کیمرون 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے اور مہم میں جو وعدے کیے گئے ہیں ان کو پورا کیا جائے بشمول یورپی یونین کی ممبر شپ کے حوالے سے ریفرینڈم۔

ان کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کو اختیارات کی منتقلی کے وعدے کو پورا کیا جائے گا اور ایسا ہی ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں بھی کیا جائے گا۔ تاہم ڈیوڈ کیمرون نے وعدہ کیا کہ ایسا کرنے میں انگلینڈ کے لیے بھی مناسب آئینی تصفیے کا خیال رکھا جائے گا۔

انتخابی نتائج کے بعد لبرل ڈیموکریٹ کے سربراہ نک کلیگ اور یو کِپ جماعت کے رہنما نائیجل فراج مستعفی ہو گئے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ایک نسل تک کنزرویٹو کی سب سے میٹھی فتح ہے۔ اب ان کو لبرل ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔

کنزرویٹو پارٹی نے انگلینڈ اور ویلز میں کامیابی حاصل کی ہے جس میں لیبر لیڈر ایڈ بالز کی نشست بھی شامل ہے۔

ایڈ ملی بینڈ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی اور پارٹی کی قیادت سنبھالے

لیبر جماعت کی سکاٹ لینڈ میں ایس این پی کے ہاتھوں صفایے کے بعد جماعت کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ مستعفی ہو گئے ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ نے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے برطانیہ میں بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور شکست کی تمام تر ذمہ داری وہ خود لیتے ہیں۔

لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ خود تو جیت گئے ہیں لیکن انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ انتخابی نتائج ان کی جماعت کے لیے مایوس کن ہیں۔

استعفی سے پہلے ڈونکاسٹر میں اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’یہ لیبر پارٹی کے لیے انتہائی مایوس کن اور مشکل رات ثابت ہوئی ہے۔ ہمیں انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں وہ سبقت نہیں ملی جس کے ہم خواہشمند تھے۔ ہمیں قوم پرستی کی لہر نے ڈبو دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ میں جو ہوا اس پر وہ اپنے رہنماؤں سے معذرت چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نئی حکومت پر اب ملک کو یکجا رکھنے کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘

نِک کلیگ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننِک کلیگ لندن میں لبرل پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں

لبرل ڈیموکریٹس کے لیے انتخابی نتائج بڑے خوفناک ثابت ہوئے اور وہ آٹھ نشتیں ہی جیت سکے ہیں جبکہ یوکپ کے رہنما نائیجل فراج تھینٹ ساؤتھ کی نشست جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے کنزرویٹو حریف سے 2,800 ووٹوں سے کینٹ کی نشست پر شکست کے بعد کہا کہ اگر وہ ویسٹ منسٹر تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوئے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

650 میں سے 635 نشستوں کے اعلان کے بعد بی بی سی کے مکمل انتخابی نتائج کے اعلان سے پہلے کی جانے والی پیشنگوئی کے مطابق کنزرویٹو 329، لیبر 234، لبرل ڈیموکریٹ آٹھ، ایس این پی 56، پلیئڈ سیمرو تین، یوکپ ایک، گرینز ایک اور باقی دیگر 19 نشستیں حاصل کر سکیں گے۔

لبرل ڈیموکریٹ کے سربراہ نک کلیگ جنھوں نے شیفیلڈ ہالام کی اپنی نشست تو جیت لی ہے لیکن اپنی پارٹی کی بری کارکردگی پر کہا ہے کہ یہ ان کی جماعت کے لیے ’ایک بے رحم اور سزا دینے والی رات تھی‘ اور وہ اپنے مستقبل کے متعلق بعد میں بیان دیں گے۔ لبرل ڈیموکریٹس کے جو اہم رہنما ان انتخابات میں ہارے ہیں ان میں ونس کیبل، ڈینی الیگزینڈر، ڈیوڈ لاز، سائمن ہیوز اور چارلز کینیڈی شامل ہیں۔

 نائیجل فراج

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجب تھانیٹ ساؤتھ کی نشست کا اعلان ہوا اور یوکپ کے رہنما نائیجل فراج کو شکست ہوئی تو ان کے چہرے پر تاثرات دیکھنے والے تھے

ڈیوڈ کیمرون نے وٹنی کی اپنی نشست جیتنے کے بعد کہا کہ وہ برطانیہ کی یورپی اتحاد میں رکنیت پر ریفرنڈم کروائیں گے اور کنزرویٹو جماعت کے اقتصادی منصوبے کو بھی عملی جامہ پہنائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا مقصد بہت سادہ ہے کہ برطانیہ میں ایسے حکومت چلاؤں جو کہ سب کے لیے ہو۔‘

<link type="page"><caption> برطانوی الیکشن میں اہم جماعتیں کون سی اور اہم مسائل کیا ہیں؟ قندیل شام کی رپورٹ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/05/150504_elex_explain_qs" platform="highweb"/></link>

کیمرون کے مخالف ایڈ ملی بینڈ کی لیبر پارٹی کو سکاٹ لینڈ میں شدید دھچکا لگا ہے جہاں برطانیہ سے آزادی کی حامی کی سکاٹش نیشنل پارٹی نے اس کا صفایا کر دیا ہے۔

ایس این پی 56 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے جن میں سے 40 ایسی نشستیںوہ ہیں جن پر گذشتہ الیکشن میں لیبر پارٹی جیتی تھیں۔

ایس این پی نے سکاٹ لینڈ میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ بھی لیے ہیں۔

2010 میں بننے والے حکومت میں کنزرویٹو پارٹی کی اتحادی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے لیے بھی یہ الیکشن ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں اور وہ اب تک آٹھ نشستیں ہی جیت پائی ہے جبکہ اسے 46 ایسے حلقوں میں شکست ہوئی ہے جہاں وہ گذشتہ الیکشن میں جیتی تھی۔

انتخابی جائزے

نتائج آنے سے قبل سامنے آنے والے انتخابی جائزوں میں بھی کہا گیا تھا کہ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتی ہے اور وہ دارالعوام کی 650 نشستوں میں سے 316 جبکہ لیبر پارٹی 239 پر کامیاب ہو سکتی ہے۔

نکولا سٹروجن

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشننکولا سٹروجن کی قیادت میں ایس این پی نے سکاٹ لینڈ سے دوسری جماعتوں کا تقریباً صفایا کر دیا ہے

ان جائزوں میں سکاٹ لینڈ کی آزادی کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی کی واضح فتح کی پیشنگوئی بھی کی گئی اور کہا گیا کہ وہ سکاٹ لینڈ سے دارالعوام کی 59 میں سے ایک کے سوا تمام نشستیں جیت لے گی۔

اس کے علاوہ انھی جائزوں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ موجودہ حکومت میں کنزرویٹو پارٹی کی اتحادی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کو شکست فاش ہو سکتی ہے اور وہ ایسی 47 نشستیں ہار سکتی ہے جن پر وہ 2010 کے الیکشن میں جیتی تھی۔

برطانوی دارالعوام میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے 326 ممبران کی ضرورت ہونی چاہیے لیکن شمالی آئرلینڈ کی جماعت شین فین کبھی بھی پارلیمنٹ میں اپنی نشستوں پر نہیں بیٹھتی اس لیےاکثریت حاصل کے لیے کسی بھی جماعت کو عملاً مقررہ تعداد سے کم ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔

برطانیہ کے موجودہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو جماعت نے 2010 کے الیکشن میں 307 نشستیں جیتی تھیں اور انھوں نے لبرل ڈیموکریٹس کو ساتھ ملا کر پانچ سال حکومت کی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیبر پارٹی نے 2010 کے انتخابات میں 258 نشستیں جیتیں لیکن اس بار اسے پہلے سے بھی کم نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

پاکستانی نژاد امیدوار

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں لیبر پارٹی کے امیدوار اور سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے صاحبزادے انس سرور کو بھی شکست ہوئی ہے جبکہ سکاٹش نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی پاکستانی نژاد تسمینہ احمد شیخ پرتھ شائر سے کامیاب ہوگئی ہیں۔

برطانوی شہر بریڈفرڈ سے دو پاکستانی نژاد امیدوار عمران حسین اور ناز شاہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ناز شاہ نے رسپیکٹ پارٹی کے مشہور سیاست دان جارج گیلووے کو ہرایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اس کے علاوہ بولٹن سے یاسمین قریشی نے فتح حاصل کی ہے جبکہ لندن میں ٹوٹنگ کے علاقے سے لیبر پارٹی کے صادق خان دوبارہ دارالعوام کے رکن بننے میں کامیاب رہے ہیں۔