برطانیہ: ڈیوڈ کیمرون کی نئی کابینہ کا اعلان

وزیر اعظم کیمرون نے اپنی کابینہ کے چند اہم ارکان کا اعلان تو فتح کے چند گھنٹے بعد ہی کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم کیمرون نے اپنی کابینہ کے چند اہم ارکان کا اعلان تو فتح کے چند گھنٹے بعد ہی کر دیا تھا

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کنزرویٹیو پارٹی کی اپنی نئی کابینہ میں مائیکل گوو کو وزیر انصاف بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کرس گریلنگ کو دارالعوام کا رہنما نامزد کیا ہے۔

نکی مورگن وزیر تعلیم کے ساتھ ساتھ مساوات کی بھی وزیر رہیں گی۔

خیال رہے کہ سنہ 1992 کے بعد پہلی بار مکمل طور پر ٹوریز کی حکومت بنانے میں کامیاب ہونے والے وزیر اعظم نے یہ اعلان پہلے ہی کردیا ہے کہ ان کے چانسلر (وزیرِ خزانہ) ، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

سابق امیگریشن وزیر مارک ہارپر کو نئی وزرات دیے جانے کی امید ہے۔

جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹیو پارٹی نے مجموعی طور پر دارالعوام کی 650 میں سے 331 نشستیں حاصل کی ہیں جس کے بعد اسے ایوان میں سادہ اکثریت مل گئی ہے۔

مائیکل گوو کو وزیر انصاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تھریسا مے کو وزیر داخلہ

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنمائیکل گوو کو وزیر انصاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تھریسا مے کو وزیر داخلہ

جمعے کو آنے والے نتائج کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ، لبرل ڈیموکریٹک رہنما نِک کلیگ اور یوکِپ کے رہنما نائجل فیراج نے استعفی دے دیا۔

دوسری جانب لیبر پارٹی کے منتخب پارلیمان اب اپنی پارٹی کے نئے سربراہ کے بارے میں غور و خوض کر رہے ہیں جبکہ ٹم فیرن نے کہا کہ وہ آنے والے دو تین دنوں میں یہ فیصلہ کریں کہ کیا انھیں نِک کلیگ کی جگہ آگے آنا چاہیے یا نہیں۔

اس کے علاوہ ڈاؤننگ سٹریٹ اور کارڈف میں حکومت کی جانب سے کٹوتی کیے جانے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

سکاٹ لینڈ مین زبردست کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی ایس این پی کی رہنما نے اپنے تمام 56 منتخب اراکین سے ملاقات کی ہے۔

خیال رہے کہ کنزرویٹیو نے انگلینڈ کے کونسل انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی ہے اور 500 سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔

نکی مورگن وزیر تعلیم کے ساتھ وزیر مساوات بھی ہوں گی

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشننکی مورگن وزیر تعلیم کے ساتھ وزیر مساوات بھی ہوں گی

ٹوئٹر پر نیکی مورگن نے کہا کہ از سر نو وزیر بنائے جانے پر وہ ’بے حد خوش‘ ہیں اور اس جیت کو ڈاؤننگ سٹریٹ نے ’زبردست اعتماد کے ووٹ‘ سے تعبیر کیا ہے۔

بی بی سی کی سیاسی نامہ نگار ایلینور گارنيئر نے کہا کہ یہ اعلانات ’مسٹر کیمرون کی وفاداری کا انعام‘ ہیں۔

وزیر اعظم کیمرون نے اپنی کابینہ کے چند اہم ارکان کا اعلان تو فتح کے چند گھنٹے بعد ہی کر دیا تھا۔

ان ارکان میں جارج اوسبورن کو دوبارہ وزیرِ خزانہ تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ فرسٹ سیکریٹری آف سٹیٹ کا اعزازی درجہ بھی دیا گیا ہے جس کے بعد عملی طور پر وہ نائب وزیرِاعظم بن گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹریسا مے کو وزیر داخلہ، فلپ ہیمنڈ کو وزیر خارجہ اور مائیکل فیلن کو وزیر دفاع برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔