انتخابات میں کامیابی کے بعد نئی ٹوری کابینہ پر غوروخوض

وزیر اعظم ڈیود کیمرون کی کنزرویٹیوپارٹی کو جمعرات کے انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم ڈیود کیمرون کی کنزرویٹیوپارٹی کو جمعرات کے انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی ہے

برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیوڈ کیمرون پہلی بار مکمل طور پر کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پر مشتمل کابینہ کی تشکیل پر غوروخوض کر رہے ہیں۔

کیمرون نے اس عزم کو بھی دہرایا ہے کہ وہ یورپی یونین اور برطانیہ کے تعلقات میں اہم تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں گے۔

کنزرویٹو پارٹی نے انتخابات میں مجموعی طور پر دارالعوام کی 650 میں سے 331 نشستیں حاصل کی ہیں جس کے بعد اسے ایوان میں سادہ اکثریت مل گئی ہے۔

اس کامیابی کا مطلب ہے کہ کنزرویٹو پارٹی اب بغیر کسی اتحاد یا دوسری پارٹی کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے حکومت کرنے کی اہل ہے۔

وزیر اعظم کیمرون نے اپنی کابینہ کے چند اہم ارکان کا اعلان تو فتح کے چند گھنٹے بعد ہی کر دیا تھا۔

ان ارکان میں جارج اوسبورن کو دوبارہ وزیرِ خزانہ تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ فرسٹ سیکریٹری آف سٹیٹ کا اعزازی درجہ بھی دیا گیا ہے جس کے بعد عملی طور پر وہ نائب وزیرِاعظم بن گئے ہیں۔

اس کے علاوہ تھریسا مے کو وزیر داخلہ، فلپ ہیمنڈ کو وزیر خارجہ اور مائیکل فیلن کو وزیر دفاع برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

تاہم وزیر اعظم کیمرون کو سابقہ اتحادی حکومت میں شامل جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے وزراء کی جگہ نئے وزیروں کا تقرر کرنا ہے۔

ایس این پی لیڈر نیکولا سٹرجیئن کے علاوہ یہاں مل بینڈ، نک کلیگ اور وزیر اعظم ڈیوڈ کمرون کو دیکھا جاسکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایس این پی لیڈر نیکولا سٹرجیئن کے علاوہ یہاں مل بینڈ، نک کلیگ اور وزیر اعظم ڈیوڈ کمرون کو دیکھا جاسکتا ہے

لبرل ڈیموکریٹس کو ان انتخابات میں شکستِ فاش ہوئی ہے اور سابقہ کابینہ میں شامل جماعت کے اہم رہنما بزنس سیکریٹری ونس کیبل، وزیر سکول ڈیوڈ لاز اور خزانہ کے چیف سیکریٹری ڈیٹی الیگزینڈر بھی شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔

نئی برطانوی پارلیمان کا پہلا اجلاس 18 مئی کو ہوگا جس میں پہلی بار خواتین اور نسلی اقلیتوں کی ریکارڈ نمائندگی ہوگی۔ ایوان میں خواتین کی تعداد 143 سے بڑھ کر 191 ہوگئی ہے جبکہ نسلی اقلیت کی جانب سے نمائندگان کی تعداد 27 سے بڑھ کر 42 ہو گئی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں ایڈ ملی بینڈ، نک کلیگ اور نائجل فیراج نے انتخابات میں اپنی جماعتوں کی ناکامی کے بعد استعفی دے دیا ہے اور اب جماعتوں کو اپنے نئے رہنما منتخب کرنے ہوں گے جو حزب اختلاف کا کردار ادا کر سکیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے جو ’ایک ملک‘ یعنی پورے برطانیہ کی حکومت چلانے کا وعدہ کر چکے ہیں، سکاٹ لینڈ کی آزادی کی حامی جماعت ایس این پی کی رہنما نکولا سٹرجن سے بھی ملاقات کی ہے۔ نکولا کی پارٹی نے سکاٹ لینڈ سے دارالعوام کی 59 میں سے 56 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

اوسبورن کو ایک بار پھر وزیر خزانہ بنایا گیا ہے جبکہ انھیں فرسٹ سیکریٹری آف سٹیٹ کا اغزازی عہدہ بھی دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہosborne

،تصویر کا کیپشناوسبورن کو ایک بار پھر وزیر خزانہ بنایا گیا ہے جبکہ انھیں فرسٹ سیکریٹری آف سٹیٹ کا اغزازی عہدہ بھی دیا گیا ہے

ایسے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایس این پی سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کے لیے مزید اختیارات پر زور دے گی اور یہ گذشتہ سال آزادی کے لیے ہونے والے ریفرینڈم کے بعد سمتھ کمیشن کی تجاویز سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں یورپی یونین اور برطانیہ کے تعلقات میں اہم تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں گے۔

انتخابی مہم کے دوران کیمرون نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ وزیرِ اعظم بنے تو یورپی یونین میں برطانوی رکنیت کی شرائط پر دوبارہ بات کریں گے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں ممکنہ طور پر 2017 میں ایک ریفرینڈم بھی ہوگا۔

یورو میں شامل ہونے سے کترانے والے نمایاں رہنما مارک پرٹچارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یورپی یونین میں برطانیہ کے مستقبل کے بارے میں ریفرینڈم کے لیے وزیر اعظم پر کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔‘

تھریسا مے کو وزیر داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنتھریسا مے کو وزیر داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے

پرٹچارڈ نے کہا کہ مسٹر کیمرون کو یورپی یونین میں برطانیہ کی شمولیت کے لیے نئی شرائط طے کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’جب وزیر اعظم برطانیہ کے لیے لڑنے برسلز جائیں گے تو پارٹی صد فی صد وزیر اعظم کی حمایت میں ہوگی اور یہ جنگ یقینا بہتر یورپی یونین کے لیے ہوگی۔‘

ادھر یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلالا جنکر نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین میں اصلاحات کے لیے برطانوی تجاویز پر بات چیت کریں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ میں کارکنوں کی آزادانہ منتقلی کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔