برطانیہ کے عام انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدوار کامیاب

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عادل شاہ زیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
برطانیہ میں 2015 کے عام انتخابات میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 10 پاکستانی نژاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ان میں زیادہ تر پاکستانی نژاد امیدوار تو گذشتہ انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے تھے لیکن لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی امیدوار ناز شاہ، عمران حسین اور سکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کی تسنیمہ شیخ نے پہلی بار دارالعوام کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔
بریڈفورڈ ویسٹ کی نشست پر لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ نے ریسپکٹ پارٹی کے سربراہ جورج گیلیوے کو شکست دی جنھوں نے اس سے قبل اس نشست پر ہوئے مڈٹرم انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیبر پارٹی کے ہی عمران حسین نے بریڈفورڈ ایسٹ کی حلقے سے کامیابی حاصل کی ہے۔
سکاٹش نیشنل پارٹی کی تسمینہ شیخ نے پرتھ شائر، سکاٹ لینڈ کی نشست سے کامیابی حاصل کی۔ لیبر کا گڑھ سمجھے جانے والے سکاٹ لینڈ میں اس بار لیبر کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔ سنہ 2010 کے انتخابات میں صرف چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت ایس این پی نے اس بار 56 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
لیبر پارٹی کی محفوظ نشست سمجھی جانے والی گلاسگو سنٹرل کی سیٹ پر سابق گورنر پنجاب محمد سرور کے صاحبزادے اور سکاٹش لیبر کے رہنما انس سرور کو بھی ایس این پی کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔ انس سرور گذشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے سات پاکستانی نژاد ارکانِ پارلیمان میں سے واحد امیدوار ہیں جنھیں اس بار شکست ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
برمنگھم پیری بار کے حلقے سے لیبر پارٹی کے خالد محمود، جب کہ برمنگھم لیڈی ووڈ سے لیبر پارٹی کی ہی شبانہ محمود نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی ہے۔
لیبر پارٹی کی یاسمین قریشی بولٹن جب کہ لیبر پارٹی کے سینیئر رہنما صادق خان ٹوٹنگ لندن سے دوبارہ رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔
حکمران کنزرویٹو پارٹی کے سینیئر رہنما اور برطانیہ کے کلچرل سیکریٹری ساجد جاوید برومز گرو سے، جب کہ رحمان چشتی گیلنگھم اور رینھم سے ایک بار پھر انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نصرت غنی کنزرویٹیو پارٹی کی ٹکٹ پر ویلڈن سے منتخب ہوئی ہیں۔







