گیلی پولی جنگ کی تقریبات میں نواز شریف کی شرکت

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننواز شریف برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر برطانیہ آئے ہیں

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پیر کو لندن کے سینوٹیف وار میموریل میں جنگ عظیم میں مارے جانے والے فوجیوں کی یادگار پر پھولوں کا گلدستہ رکھا۔

ایک صدی پہلے اتحادی فوجی جزیرہ نما گیلی پولی کے ساحلوں پر اترے تھے تاکہ سلطنتِ عثمانیہ سے ڈارڈ نیلز سٹریٹ واپس لے سکیں۔

اس سے قبل پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف برطانوی وزیرِ اعظم کی دعوت پر اینزیک ڈے اور گیلی پولی کی جنگ کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے برطانیہ آئے ہیں۔

دریں اثناء آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اپنے اپنے ان فوجیوں کو یاد کر رہے ہیں جو پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنتِ اسلامیہ کے خلاف گیلی پولی میں مارے گئے تھے۔

گیلیپولی میں صبح صادق سے قبل پہلی جنگ عظیم میں مارے جانے والے فوجیوں کی یاد میں صد سالہ تقریب منعقد کی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگیلیپولی میں صبح صادق سے قبل پہلی جنگ عظیم میں مارے جانے والے فوجیوں کی یاد میں صد سالہ تقریب منعقد کی گئی

صبح پو پھٹنے سے قبل ایک دیسی آسٹریلوی سازندے نے ڈیجیریڈو (آسٹریلیا کا روایتی بھونپو نما ساز) کے ساتھ اس تقریب کا آغاز کیا۔

سنیچر کو دن بھر اینزیک ڈے یعنی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ آرمی کور کے گیلی پولی پہنچنے کی صدسالہ تقریب منائی جائے گی۔

اس جنگ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ہزاروں فوجی مارے گئے تھے۔

اینزیک ڈے آسٹریلیا کے اہم قومی مواقع میں سے ایک ہے۔

آسٹیریلیا اور نیوزی لینڈ کے ہزاروں افراد نے اس میں شرکت کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسٹیریلیا اور نیوزی لینڈ کے ہزاروں افراد نے اس میں شرکت کی

اس صد سالہ تقریب کے لیے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ہزاروں افراد نے پو پھٹنے سے قبل منعقد کی جانے والی تقریب میں شرکت کی۔

ان میں برطانوی شہزادے پرنس چارلس اور ہیری بھی متعدد بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ موجود تھے۔

گیلی پولی میں سورج طلوع ہونے سے قبل منعقد کی جانے والی تقریب میں آسٹریلوی وزیر ا‏عظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ جن آسٹریلوی فوجیوں نے یہاں جنگ کی وہ ہمارے ملک کے ’بانی ہیرو‘ ہیں۔

شہزادہ چارلس نے بھی اس موقعے پر خطاب کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشہزادہ چارلس نے بھی اس موقعے پر خطاب کیا

انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلوی فوج اپنے زمانے میں جس قدر اچھی ہو سکتی تھی اتنی اچھی تھی اب ہم اپنے زمانے میں جس قدر اچھے ہو سکتے ہیں ہمیں اتنا اچھا ہونا چاہیے۔‘

اپنے ملک کی مسلح افواج کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جان کی نے کہا کہ ان کے ملک کو حملہ آور کے طور پر شاید ہی دیکھا جاتا ہے ’لیکن انھیں دولتِ عثمانیہ ترکی نے سنہ 1915 میں اسی طور دیکھا۔‘

اس جنگ میں برطانیہ کی اتحادی فوج کے 45 ہزار فوجی جبکہ ترکی کے 86 ہزار فوجی مارے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناس جنگ میں برطانیہ کی اتحادی فوج کے 45 ہزار فوجی جبکہ ترکی کے 86 ہزار فوجی مارے گئے تھے

انھوں نے کہا کہ گیلیپولی بہترین خصوصیات کا مترادف بن چکا ہے بطور خاص ایسے میں ’جب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے باشندوں کو ایک ساتھ بادِ مخالف کا سامنا ہو۔‘

گیلی پولی سے ہزاروں میل دور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سینچر کو سورج طلوع ہونے سے قبل سخت سکیورٹی میں یہ تقریب منعقد کی گئی۔

آسٹریلوی وزیر اعظم نے اس موقعے پر فوجیوں کی یادگار پر پھولوں کا ہار نذر کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی وزیر اعظم نے اس موقعے پر فوجیوں کی یادگار پر پھولوں کا ہار نذر کیا

آسٹریلوی چیف آف آرمی ڈیوڈ موریسن نے کہا: ’انھیں پیار کے بدلے پیار ملا۔ وہ اپنے اعتقاد کے لیے لڑنے کو تیار تھے، وہ ہماری طرح خوف اور انسانی مایوسی کے شکار تھے۔‘

نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں تقریبا 20 ہزار افراد نے قومی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک دعائیے میں شرکت کی۔

بزبین میں اس موقعے پر انتہائی سخت سکیورٹی میں پروگرام منعقد کیے گئے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبزبین میں اس موقعے پر انتہائی سخت سکیورٹی میں پروگرام منعقد کیے گئے

سنیچر کو لندن میں ملکہ برطانیہ، ڈیوک آف ایڈنبرگ جو کہ گیلیپولی ایسوسی ایشن کے پیٹرن ہیں، پرنس ولیم اور دیگر سینیئر اہلکاروں نے وائٹ ہال میں سینوٹاف کے مقام پر اسی تقریب کے تعلق سے پھولوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اس جنگ میں برطانیہ کی متحدہ افواج کے تقریبا 45 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ترکی کی فوج کے 86 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

میلبرن کے ایک چرچ میں اس تقریب کے سلسلے میں ایک دعائیہ منعقد کی گئی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیلبرن کے ایک چرچ میں اس تقریب کے سلسلے میں ایک دعائیہ منعقد کی گئی

اسی جنگ میں اتحادی فوج میں برطانیہ کی ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کے علاوہ فرانس کی 79 ہزار اور اینزیک یعنی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی 74 ہزار افواج شامل تھی۔

یہاں اینزیک افواج نے اپنا مخصوص کردار پیش کیا تھا جس کی وجہ سے ان ممالک کا عالمی منظر نامے پر ظہور ہوا۔