عثمانی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکت کے سو سال

آرمینیائی باشندوں کی ہلاکت کے لیے نسل کشی کی اصطلاح استعمال کرنے والوں پر ترک حکومت شدید تنقید کرتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآرمینیائی باشندوں کی ہلاکت کے لیے نسل کشی کی اصطلاح استعمال کرنے والوں پر ترک حکومت شدید تنقید کرتی ہے

پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے لاکھوں آرمینیائی باشندوں کی یاد میں آرمینیا میں صد سالہ دعائیہ تقریبات جاری ہیں۔

جمعے کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں جنگِ عظیم اول کے دوران ہلاک ہونے والے 15 لاکھ افراد کی یادگار پر پھول چڑھائے گئے اور ایک منٹ تک خاموشی اختیار کی گئی۔

ترک حکومت آرمینیائی باشندوں کی ہلاکت کے واقعے کے لیے ’نسل کشی‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور اس کی وجہ سے اس کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

آرمینیا کا موقف ہے کہ اس دوران 15 لاکھ آرمینیائی باشندوں کو قتل کیا گیا۔ ترکی ان اعداد و شمار کو ہمیشہ غلط قرار دیتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ یہ اموات عالمی جنگ میں شروع ہونی والی عام شورش کا حصہ تھیں۔

ترکی کا کہنا ہے کہ ظلم ہوا تھا، تاہم اس میں صرف عیسائیوں کی ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

آرمینیا بھر میں آج ہلاک شدگان کی یاد میں صد سالہ دعائیہ تقریبات ہو رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآرمینیا بھر میں آج ہلاک شدگان کی یاد میں صد سالہ دعائیہ تقریبات ہو رہی ہیں

ادھر ترکی میں بھی جمعے کو گیلی پولی کی جنگ میں ہلاک ہونے والے آرمینیائی باشندوں کی یاد میں دعائیہ تقریب منعقد ہو گی۔ ترک وزیراعظم احمد داؤدوغلو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک آرمینیا کے غم بانٹے گا تاہم انھوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایک صدی قبل ہونے والی یہ ہلاکتیں نسل کشی نہیں تھیں۔

تاہم آرمینیا کے صدر سیرژ سارکسیان کا کہنا ہے کہ ترکی دنیا کی توجہ یریوان میں ہونے والی تقریبات سے ہٹانے کے لیے یہ تقریبات منعقد کر رہا ہے۔

ہلاک شدگان کی یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد اپنے خطاب میں آرمینیا کے صدر سارکسیان نے کہا کہ ’میں ان سب لوگوں کا شکرگزارہوں جنھوں نے انسانی اقدار کے لیے اپنی ذمہ داری کو ایک بار پھر باور کروایا ہے، یہ کہنے کے لیے کہ کچھ فراموش نہیں ہوا، 100 سال بعد بھی ہمیں سب کچھ یاد ہے۔‘

دارالحکومت یریوان میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار ریحان دیمتری کے مطابق صد سالہ تقریب کا جامنی رنگ میں لکھا یہ نعرہ ہر جگہ ملتا ہے، ’مجھے بھولنا مت۔‘ کھڑکیوں پر، دکانوں، اورگاڑیوں کی ونڈ سکرینوں پر اور بہت سوں نے اس کو اپنے لباس پر بھی لگا رکھا ہے۔

نامہ نگار کہتی ہیں کہ یہ نعرہ بھی دکھائی دیا کہ ’مجھے یاد ہے اور میرا مطالبہ ہے۔‘

لیکن آرمینیا کے لوگوں کا مطالبہ ہے کیا؟

اس سوال کے جواب میں ان تقریبات میں شامل سرگے مارٹی روسیان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا سے شفافیت کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم ’ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم جو چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہماری حکومت معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔‘

پوپ فرانسس نے حال ہی میں آرمینیا کے باشندوں کی ہلاکت کو ’بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی‘ قرار دیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپوپ فرانسس نے حال ہی میں آرمینیا کے باشندوں کی ہلاکت کو ’بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی‘ قرار دیا تھا

ادھر فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ اس حادثے کو کبھی بھی نہیں بھولیں گے جو آرمینیا کے عوام کے ساتھ پیش آیا۔

روسی صدر بھی ان صدسالہ دعائیہ تقریبات میں شریک ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے بہت ہی نپے تلے انداز میں اپنا بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اسے نسل کشی کی اصطلاح استعمال کیے بغیر اسے ’بیسویں صدی کی بدترین سفاکیت میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترکی نے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی جانب سے سلطنت عثمانیہ کے دور میں آرمینیائی باشندوں کے قتل کو ’بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی‘ قرار دیے جانے پر احتجاجاً ویٹیکن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔