فوجی ڈیوٹی پر پرنس ہیری آسٹریلیا میں

،تصویر کا ذریعہGetty
برطانیہ کے شہزادے پرنس ہیری چار ہفتے کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے ہیں جہاں وہ آسٹریلوی دفاعی فوج کے ساتھ کام کریں گے۔
ڈیوٹی پر حاضر ہونے سے قبل انھوں نے کینبیرا میں نامعملوم آسٹریلوی فوجیوں کے مزار پر پھولوں کا ہار چڑھایا جنھوں نے برطانیہ اور آسٹریلیا کی متحدہ مہم کے لیے جان دی تھی۔
اس موقعے پر انھوں نے ملکہ برطانیہ کا ایک خط بھی پیش کیا جس میں انھوں لکھا تھا کہ اس دورے سے ان کا پوتا آسٹریلوی فوج سے ’بہت استفادہ حاصل کرے گا۔‘
شہزادے کو فوج میں ان کے عہدے کے سبب کیپٹین ویلز کہا جاتا ہے اور وہ دس سال کی سروس کے بعد جون میں برطانوی فوج سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا میں اپنی تعیناتی کے دوران وہ وہاں کے مقامی فوجیوں کے ساتھ پیٹرولنگ کریں اور ملک کی سپیشل فورسز کے ساتھ تربیت بھی حاصل کریں گے۔
انھوں نے سرکاری طور پر دفاعی فوج کے سربراہ ایئر چیف مارشل مارک بنسکن کو رپورٹ کیا۔
انھوں نے ملکہ کا جو خط حوالے کیا اس میں لکھا تھا: ’میں اس بات سے بہت خوش ہوں کہ آسٹریلوی اور برطانوی فوجوں کے درمیان طویل رشتے میں میرے پوتے پرنس ہیری کا فوجی کے طور پر جوائن کرنا بھی شامل ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
’ہماری مسلح فوجیں ایک ساتھ صلاحیتوں اور وسائل کا لین دین کرتی ہیں اور ہمارے مشترکہ اقدار کو قائم رکھنے کی پابند ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خط میں مزید لکھا گیا ہے: ’مجھے معلوم ہے کہ کیپٹین ولز آسٹریلوی فوجیوں کے ساتھ وقت گذارنے سے بہرمند ہوں گے اور میں انھیں اپنے یہاں خوش آمدید کہنے کے لیے شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘
آسٹریلوی فوج نے کہا ہے کہ ’یہ تعیناتی بہت چیلنجنگ اور سرگرم ہوگی‘ جبکہ پرنس نے کہا ہے کہ وہ ’اس کے لیے تیار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اس تعیناتی میں مختصر وقفہ اس وقت آئے گا جب وہ اس ماہ گیلی پولی کی صد سالہ تقریب کے لیے ترکی جائیں گے۔
خیال رہے کہ سنہ 1915 میں گیلی پولی کی متحدہ مہم کے دوران ہزاروں آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کے فوجی مارے گئے تھے۔
فوج سے علیحدہ ہونے کے بعد پرنس ہیری رضاکارانہ اور فلاحی کاموں میں حصہ لیں گے۔







